العربية (الأصل)
522 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى قَضَاهَا وَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ ذلِكَ فِي الثَّانِيَةِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ لَقَدْ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُهُ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ، حِينَ رَأَيْتُمُونَي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ، وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ
الترجمة الإنجليزية
A'ishah (may Allah be pleased with her) said: The sun eclipsed, and the Prophet (peace be upon him) stood and recited a long surah, then bowed for a long time, then raised his head and began another surah. Then he bowed again, completing it, and prostrated. He did the same in the second rak'ah. Then he said: "These are two of the signs of Allah. When you see them, pray until relief comes to you. Indeed, I saw in this standing of mine everything that I was promised. I even saw myself reaching out to take a cluster of grapes from Paradise, and I saw Hellfire — parts of it consuming other parts."
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورج گرہن لگا تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم(نماز کے لیے) کھڑے ہوئے اور ایک لمبی سورۃ پڑھی، پھر رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا، اس کے بعد دوسری سورۃ شروع کر دی، پھر رکوع کیا اور رکوع پورا کر کے اس رکعت کو ختم کیا اور سجدے میں گئے، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا:”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اس لیے جب ان میں گرہن دیکھو تو نماز شروع کر دو جب تک کہ یہ صاف ہو جائے؛ اور دیکھو! میں نے اپنی اسی جگہ سے ان تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جن کا مجھ سے وعدہ ہے، یہاں تک کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں جنت کا ایک خوشہ لینا چاہتا ہوں، ابھی تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ میں آگے بڑھنے لگا تھا، اور میں نے دوزخ بھی دیکھی (اس حالت میں کہ) بعض آگ بعض آگ کو کھائے جا رہی تھی، تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ جہنم کے اس ہولناک منظر کو دیکھ کر میں پیچھے ہٹ گیا تھا، میں نے جہنم کے اندر عمرو بن لحی کو دیکھا، یہ وہ شخص ہے جس نے سانڈ کی رسم عرب میں جاری کی تھی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 522]
