Narrated Imran ibn Husayn: They were traveling with the Prophet (peace be upon him). They traveled through the night until, at the break of dawn, they stopped to rest and fell into deep sleep until the sun had risen. The first to wake was Abu Bakr. The Prophet (peace be upon him) was not to be awakened from sleep until he woke on his own. Then Umar woke. Abu Bakr sat by his head and began saying 'Allahu Akbar' loudly until the Prophet (peace be upon him) woke up. He dismounted and led them in the morning prayer. A man from the group stayed apart and did not pray with them. When the Prophet finished, he said: "O so-and-so, what prevented you from praying with us?" He said: "I am in a state of major ritual impurity." The Prophet ordered him to perform tayammum with clean earth, and he prayed. Then the Prophet put me in the riding party ahead of him. We were very thirsty. While we were traveling, we came upon a woman sitting between two waterskins with her legs hanging down. We said to her: "Where is water?" She said: "There is no water." We said: "How far is water from your family?" She said: "A day and a night's journey." We said: "Come to the Messenger of Allah." She said: "What is the Messenger of Allah?" We did not leave her alone until we brought her to the Prophet (peace be upon him). She told him the same as she told us, adding that she was a widow with orphans. He ordered her waterskins to be brought, touched the openings, and we drank — forty thirsty men — until we were satisfied, and filled every waterskin and vessel we had, though we did not water the camels. The skins were nearly bursting with water. Then he said: "Bring whatever you have." Pieces of bread and dates were collected for her until she returned to her family. She said: "I met the greatest sorcerer of people — or he is a prophet, as they claim." Allah guided that settlement through that woman, and they all embraced Islam.
الترجمة الأردية
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ایک سفر میں تھے، رات بھر سب لوگ چلتے رہے، جب صبح کا وقت قریب ہوا تو پڑاؤ کیا (چونکہ ہم تھکے ہوئے تھے) اس لیے سب لوگ اتنی گہری نیند سو گئے کہ سورج پوری طرح نکل آیا، سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جاگے، لیکن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو جب آپ سوتے ہوتے تو جگاتے نہیں تھے تاآنکہ آپ خود ہی جاگتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی جاگ گئے، آخر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے سر مبارک کے قریب بیٹھ گئے اور بلند آواز سے«اللّٰهُ أَكْبَرُ»”اللہ سب سے بڑا ہے“کہنے لگے، اس سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبھی جاگ گئے اور وہاں سے کوچ کا حکم دے دیا (پھر کچھ فاصلے پر تشریف لائے) اور یہاں آپ اترے اور ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، ایک شخص ہم سے دور کونے میں بیٹھا رہا، اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اس سے فرمایا:”اے فلاں! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں کس چیز نے روکا؟“اس نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی ہے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے حکم دیا کہ پاک مٹی سے تیمم کر لے (پھر اس نے بھی تیمم کے بعد) نماز پڑھی، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھے چند سواروں کے ساتھ آگے بھیج دیا (تاکہ پانی تلاش کریں کیونکہ) ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، اب ہم اسی حالت میں چل رہے تھے کہ ہمیں ایک عورت ملی جو دو مشکوں کے درمیان (سواری پر) اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے جا رہی تھی، ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ملتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہاں پانی نہیں ہے، ہم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے گھر سے پانی کس قدر فاصلے پر ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن ایک رات کا فاصلہ ہے، ہم نے اس سے کہا کہ اچھا! تم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں چلو، وہ بولی رسول اللہ کے کیا معنی ہیں؟ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آخر ہم اسے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں لائے، اس نے آپ سے بھی وہی کہا جو ہم سے کہہ چکی تھی، ہاں اتنا اور کہا کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے (اس لیے واجب الرحم ہے)، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم سے اس کے دونوں مشکیزوں کو اتارا گیا اور آپ نے ان کے دہانوں پر دست مبارک پھیرا، ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے اس میں سے خوب سیراب ہو کر پیا اور اپنے تمام مشکیزے اور بالٹیاں بھی بھر لیں، ہم نے صرف اونٹوں کو پانی نہیں پلایا، اس کے باوجود اس کی مشکیں پانی سے اتنی بھری ہوئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا ابھی بہہ پڑیں گی، اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو کچھ (کھانے کی چیزوں میں سے) تمہارے پاس ہے میرے پاس لاؤ۔“چنانچہ اس عورت کے سامنے ٹکڑے اور کھجوریں لا کر جمع کر دی گئیں، پھر جب وہ اپنے قبیلے میں آئی تو اپنے آدمیوں سے اس نے کہا کہ آج میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ (اس کے ماننے والے) لوگ کہتے ہیں وہ واقعی نبی ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے اس کے قبیلے کو اسی عورت کی وجہ سے ہدایت دی، وہ خود بھی اسلام لائی اور تمام قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 396]
Narrated Imran ibn Husayn: They were traveling with the Prophet (peace be upon him). They traveled through the night until, at the break of dawn, they stopped to rest and fell into deep sleep until the sun had risen. The first to wake was Abu Bakr. The Prophet (peace be upon him) was not to be awakened from sleep until he woke on his own. Then Umar woke. Abu Bakr sat by his head and began saying 'Allahu Akbar' loudly until the Prophet (peace be upon him) woke up. He dismounted and led them in the morning prayer. A man from the group stayed apart and did not pray with them. When the Prophet finished, he said: "O so-and-so, what prevented you from praying with us?" He said: "I am in a state of major ritual impurity." The Prophet ordered him to perform tayammum with clean earth, and he prayed. Then the Prophet put me in the riding party ahead of him. We were very thirsty. While we were traveling, we came upon a woman sitting between two waterskins with her legs hanging down. We said to her: "Where is water?" She said: "There is no water." We said: "How far is water from your family?" She said: "A day and a night's journey." We said: "Come to the Messenger of Allah." She said: "What is the Messenger of Allah?" We did not leave her alone until we brought her to the Prophet (peace be upon him). She told him the same as she told us, adding that she was a widow with orphans. He ordered her waterskins to be brought, touched the openings, and we drank — forty thirsty men — until we were satisfied, and filled every waterskin and vessel we had, though we did not water the camels. The skins were nearly bursting with water. Then he said: "Bring whatever you have." Pieces of bread and dates were collected for her until she returned to her family. She said: "I met the greatest sorcerer of people — or he is a prophet, as they claim." Allah guided that settlement through that woman, and they all embraced Islam.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ایک سفر میں تھے، رات بھر سب لوگ چلتے رہے، جب صبح کا وقت قریب ہوا تو پڑاؤ کیا (چونکہ ہم تھکے ہوئے تھے) اس لیے سب لوگ اتنی گہری نیند سو گئے کہ سورج پوری طرح نکل آیا، سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جاگے، لیکن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو جب آپ سوتے ہوتے تو جگاتے نہیں تھے تاآنکہ آپ خود ہی جاگتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی جاگ گئے، آخر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے سر مبارک کے قریب بیٹھ گئے اور بلند آواز سے«اللّٰهُ أَكْبَرُ»”اللہ سب سے بڑا ہے“کہنے لگے، اس سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبھی جاگ گئے اور وہاں سے کوچ کا حکم دے دیا (پھر کچھ فاصلے پر تشریف لائے) اور یہاں آپ اترے اور ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، ایک شخص ہم سے دور کونے میں بیٹھا رہا، اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اس سے فرمایا:”اے فلاں! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں کس چیز نے روکا؟“اس نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی ہے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے حکم دیا کہ پاک مٹی سے تیمم کر لے (پھر اس نے بھی تیمم کے بعد) نماز پڑھی، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھے چند سواروں کے ساتھ آگے بھیج دیا (تاکہ پانی تلاش کریں کیونکہ) ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، اب ہم اسی حالت میں چل رہے تھے کہ ہمیں ایک عورت ملی جو دو مشکوں کے درمیان (سواری پر) اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے جا رہی تھی، ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ملتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہاں پانی نہیں ہے، ہم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے گھر سے پانی کس قدر فاصلے پر ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن ایک رات کا فاصلہ ہے، ہم نے اس سے کہا کہ اچھا! تم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں چلو، وہ بولی رسول اللہ کے کیا معنی ہیں؟ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آخر ہم اسے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں لائے، اس نے آپ سے بھی وہی کہا جو ہم سے کہہ چکی تھی، ہاں اتنا اور کہا کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے (اس لیے واجب الرحم ہے)، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم سے اس کے دونوں مشکیزوں کو اتارا گیا اور آپ نے ان کے دہانوں پر دست مبارک پھیرا، ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے اس میں سے خوب سیراب ہو کر پیا اور اپنے تمام مشکیزے اور بالٹیاں بھی بھر لیں، ہم نے صرف اونٹوں کو پانی نہیں پلایا، اس کے باوجود اس کی مشکیں پانی سے اتنی بھری ہوئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا ابھی بہہ پڑیں گی، اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو کچھ (کھانے کی چیزوں میں سے) تمہارے پاس ہے میرے پاس لاؤ۔“چنانچہ اس عورت کے سامنے ٹکڑے اور کھجوریں لا کر جمع کر دی گئیں، پھر جب وہ اپنے قبیلے میں آئی تو اپنے آدمیوں سے اس نے کہا کہ آج میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ (اس کے ماننے والے) لوگ کہتے ہیں وہ واقعی نبی ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے اس کے قبیلے کو اسی عورت کی وجہ سے ہدایت دی، وہ خود بھی اسلام لائی اور تمام قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 396]