العربية (الأصل)
348 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الأَمْوالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلاَ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، يُصَلُّونَ كمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُم فَضْلٌ مِنْ أَمْوَالٍ يَحُجُّونَ بِهَا وَيَعْتَمِرُونَ، وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ قَالَ: أَلاَ أُحَدِّثكُمْ بِمَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ، وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، إِلاَّ مَنْ عَمِلَ مِثْلَهُ تُسبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتكبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، فَاخْتَلَفْنَا بَيْنَنَا، فَقَالَ بَعْضُنَا نُسَبِّحُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَنَحْمَدُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَنكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: تَقُولُ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ للهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، حَتَّى يَكُونَ مِنْهُنَّ كُلِّهِنَّ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Hurairah: The poor came to the Prophet (peace be upon him) and said: "The wealthy have taken the highest ranks and lasting bliss. They pray as we pray, fast as we fast, but they have surplus wealth with which they perform Hajj, Umrah, jihad, and give charity." He said: "Shall I not tell you something by which you can catch up with those who have surpassed you? No one after you will surpass you, and you will be the best among those you are with, except one who does the same. Say: SubhanAllah (glory be to Allah), Alhamdulillah (praise be to Allah), and Allahu Akbar (Allah is the greatest) after every prayer thirty-three times." We differed among ourselves: some said thirty-three of each. I went back to him, and he said: "Say: SubhanAllah, Alhamdulillah, and Allahu Akbar, until each of them totals thirty-three."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نادار لوگ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ امیر رئیس لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی جنت حاصل کر چکے، حالانکہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں، لیکن مال و دولت کی وجہ سے انہیں ہم پر فوقیت حاصل ہے کہ اس کی وجہ سے وہ حج کرتے ہیں، عمرہ کرتے ہیں، جہاد کرتے ہیں اور صدقے دیتے ہیں (اور ہم محتاجی کی وجہ سے ان کاموں کو نہیں کر پاتے)۔ اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”لو میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتا ہوں کہ اگر تم اس کی پابندی کرو گے تو جو لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں انہیں تم پا لو گے اور تمہارے مرتبہ تک پھر کوئی نہیں پہنچ سکتا اور تم سب سے اچھے ہو جاؤ گے سوائے ان کے جو یہی عمل شروع کر دیں؛ ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ تسبیح («سُبْحَانَ اللّٰهِ»”سبحان اللہ“)، تحمید («الْحَمْدُ لِلّٰهِ»”الحمد للہ“) اور تکبیر («اللّٰهُ أَكْبَرُ»”اللہ اکبر“) کہا کرو۔“(سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) پھر ہم میں اختلاف ہو گیا، کسی نے کہا کہ ہم تسبیح تینتیس مرتبہ، تحمید تینتیس مرتبہ اور تکبیر چونتیس مرتبہ کہیں گے؛ میں نے اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمسے دوبارہ معلوم کیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”«سُبْحَانَ اللّٰهِ»”سبحان اللہ“،«الْحَمْدُ لِلّٰهِ»”الحمد للہ“اور«اللّٰهُ أَكْبَرُ»”اللہ اکبر“کہو، تا آنکہ ہر ایک ان میں سے تینتیس مرتبہ ہو جائے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 348]
