العربية (الأصل)
343 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا لِي، إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا؛ فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْت لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَجُوزَيْنِ، وَذَكَرْتُ لَهُ؛ فَقَال: صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلاَةٍ إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Aisha: Two old Jewish women from Medina came to me and said: "The people of the graves are punished in their graves." I denied it and did not believe them. They left, and the Prophet (peace be upon him) came in. I said to him: "O Messenger of Allah, two old women..." and I told him. He said: "They spoke the truth. They are punished with a punishment that all the animals can hear." After that, I never saw him in any prayer without seeking refuge from the punishment of the grave.
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبر میں عذاب ہوگا، لیکن میں نے انہیں جھٹلایا اور ان کی تصدیق نہ کر سکی، پھر وہ دونوں عورتیں چلی گئیں اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دو بوڑھی عورتیں، پھر میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے واقعہ کا ذکر کیا، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”انہوں نے صحیح کہا، قبر والوں کو عذاب ہوگا اور ان کے عذاب کو تمام چوپائے سنیں گے۔“پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمہر نماز کے بعد قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 343]
