العربية (الأصل)
316 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ أَبُو حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ: إِنَّ رِجَالاً أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ، مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذلِكَ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلاَنَةَ(امْرأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ): مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاء الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ ههُنَا ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا، وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَع وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتُعلَّمُوا صَلاَتِي
الترجمة الإنجليزية
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever eats garlic or onion should keep away from us" — or he said — "should keep away from our mosque, and should stay in his house."
الترجمة الأردية
ابوحازم بن دینار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان کا آپس میں اس (بات) پر اختلاف تھا کہ منبر نبوی («عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ») کی لکڑی کس درخت کی تھی، اس لیے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا: خدا گواہ ہے، میں جانتا ہوں کہ منبر نبوی کس لکڑی کا تھا، پہلے دن جب وہ رکھا گیا اور سب سے پہلے جب اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبیٹھے تو میں اس کو بھی جانتا ہوں۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انصار کی فلاں عورت کے پاس، جن کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نام بھی بتایا تھا، ایک آدمی کو بھیجا کہ”اپنے بڑھئی غلام سے میرے لیے لکڑیاں جوڑ دینے کے لیے کہیں تاکہ مجھے لوگوں سے کچھ کہنا ہو تو اس پر بیٹھا کروں۔“چنانچہ انہوں نے اپنے غلام سے کہا اور وہ غابہ کے جھاؤ کی لکڑی سے اسے بنا کر لایا۔ اس انصاری خاتون نے اسے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں بھیج دیا، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے یہاں رکھوایا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اسی پر (کھڑے ہو کر) نماز پڑھائی، اسی پر کھڑے کھڑے تکبیر کہی، اسی پر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں لوٹے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا اور پھر دوبارہ اسی طرح کیا، جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو خطاب فرمایا:”لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم میری پیروی کرو اور میری طرح نماز پڑھنی سیکھ لو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 316]
