العربية (الأصل)
254 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتِ امْرأَةٌ لِعُمَرَ تَشْهَدُ صَلاَةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهَا: لِم تَخْرُجِينَ وَقَدْ تَعْلَمِينَ أَنَّ عُمَرَ يَكْرَهُ ذَلِكَ وَيَغَارُ قَالَتْ: وَمَا يَمْنَعَهُ أَنْ يَنْهَانِي قَالَ: يَمْنَعُهُ قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn Umar: Umar's wife used to attend the Fajr and Isha prayers in congregation at the mosque. It was said to her: "Why do you go out when you know that Umar dislikes that and is jealous?" She said: "What prevents him from forbidding me?" He said: "What prevents him is the saying of the Messenger of Allah (peace be upon him): 'Do not prevent the female servants of Allah from the mosques of Allah.'"
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی تھیں جو صبح اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنے کے لیے مسجد میں آیا کرتی تھیں، ان سے کہا گیا کہ باوجود اس علم کے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس بات کو مکروہ جانتے ہیں اور وہ غیرت محسوس کرتے ہیں، پھر آپ مسجد میں کیوں جاتی ہیں؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کر دیتے؟ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی اس حدیث کی وجہ سے کہ:”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 254]
