العربية (الأصل)
237 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَلاَ كُنْتُ أُرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ أَحَدٌ مَقَامَهُ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Aisha: I argued with the Messenger of Allah (peace be upon him) about that. The only reason I persisted was that it never occurred to me that the people could ever love a man who stood in the Prophet's place. I thought that people would see it as a bad omen. I wanted the Messenger of Allah to change his mind about Abu Bakr.
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے اس معاملہ (یعنی ایامِ مرض میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے سلسلے) میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسے بار بار پوچھا، میں بار بار آپصلی اللہ علیہ وسلمسے صرف اس لیے پوچھ رہی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ جو شخص (نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی زندگی میں) آپصلی اللہ علیہ وسلمکی جگہ پر کھڑا ہوگا لوگ اس سے کبھی محبت نہیں رکھ سکتے بلکہ میرا خیال تھا کہ لوگ اس سے بدفالی لیں گے، اس لیے میں چاہتی تھی کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم نہ دیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 237]
