العربية (الأصل)
1882 صحيح حديث أُسَامَةَ قِيلَ لَهُ: لَوْ أَتَيْتَ فُلاَنًا فَكَلَّمْتَهُ قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُرَوْنَ أَنِّي لاَ أُكَلِّمُهُ إِلاَّ أُسْمِعُكُمْ إِنِّي أُكَلِّمُهُ فِي السِّرِّ، دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا لاَ أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ وَلاَ أَقُولُ لِرَجُلٍ، أَنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا: إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ، بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: وَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُلْقى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فِي النَّارِ، فَيَدُورُ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ، فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ، فَيَقُولُونَ: أَيْ فُلاَنُ مَا شَأْنُكَ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهى عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ آتِيهِ، وَأَنْهَاكمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Usamah: He was told: "Why don't you go to so-and-so and speak to him?" He said: "You think that I do not speak to him unless I let you hear it. I speak to him privately, without opening a door that I do not want to be the first to open. I will not say to a man who is my ruler that he is the best of people, after something I heard from the Messenger of Allah (peace be upon him)." They asked: "What did you hear him say?" He said: "I heard him say: 'A man will be brought on the Day of Resurrection and thrown into the Fire. His intestines will spill out in the Fire, and he will go around them as a donkey goes around a mill. The people of the Fire will gather around him and say: O so-and-so, what happened to you? Did you not use to enjoin good and forbid evil? He will say: I used to enjoin good but not do it, and I used to forbid evil but do it.'"
الترجمة الأردية
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ”اگر آپ فلاں صاحب (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) کے یہاں جا کر ان سے گفتگو کریں تو اچھا ہے (تاکہ وہ یہ فساد دبانے کی تدبیر کریں)“انہوں نے کہا:”کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تم کو سنا کر (تمہارے سامنے ہی) بات کرتا ہوں؟ میں تنہائی میں ان سے گفتگو کرتا ہوں اس طرح کہ فساد کا دروازہ نہیں کھولتا۔ میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ سب سے پہلے میں فساد کا دروازہ کھولوں اور میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے ایک حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہیں کہتا کہ جو شخص میرے اوپر سردار ہو وہ سب لوگوں میں بہتر ہے۔“لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے جو حدیث سنی ہے وہ کیا ہے؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ”میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے سنا تھا:”قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا، آگ میں اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ شخص اس طرح چکر لگانے لگے گا جیسے گدھا اپنی چکی پر گردش کیا کرتا ہے۔ جہنم میں ڈالے جانے والے اس کے قریب آ کر جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے: اے فلاں! آج یہ تمہاری کیا حالت ہے؟ کیا تم ہمیں اچھے کام کرنے کے لیے نہیں کہتے تھے اور کیا تم برے کاموں سے ہمیں منع نہیں کیا کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا: جی ہاں، میں تمہیں تو اچھے کاموں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا، برے کاموں سے تمہیں منع بھی کرتا تھا لیکن خود کیا کرتا تھا۔““[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1882]
