العربية (الأصل)
1866 صحيح حديث عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأتِي بِجِزْيَتِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ الأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَتْ صَلاَةَ الصُّبْحِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى بِهِمُ الْفَجْرَ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ رَآهُمْ وَقَالَ: أَظُنُّكُم قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ بِشَيْءٍ قَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: فَأَبْشِروا وَأَمِّلوا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللهِ لاَ الْفَقْرَ أَخْشى عَلَيْكُمْ، وَلكِنْ أَخْشى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Amr ibn Awf al-Ansari, who was an ally of Banu Amir ibn Lu'ayy and had witnessed the Battle of Badr: The Messenger of Allah (peace be upon him) sent Abu Ubaydah ibn al-Jarrah to Bahrain to collect its jizyah. The Messenger of Allah (peace be upon him) had made a treaty with the people of Bahrain and appointed al-Ala ibn al-Hadrami over them. Abu Ubaydah arrived with wealth from Bahrain. The Ansar heard of Abu Ubaydah's arrival and attended the Fajr prayer with the Prophet (peace be upon him). When he finished the prayer and turned to leave, they stood in his way. The Messenger of Allah (peace be upon him) smiled when he saw them and said: "I think you have heard that Abu Ubaydah has brought something." They said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "Rejoice and hope for what will please you. By Allah, it is not poverty that I fear for you. Rather, I fear that the world will be spread out before you as it was spread out before those before you, and you will compete for it as they competed for it, and it will destroy you as it destroyed them."
الترجمة الأردية
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنی عامر بن لؤی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے بحرین کے لوگوں سے صلح کی تھی اور ان پر سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو حاکم بنایا تھا۔ جب سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین کا مال لے کر آئے تو انصار کو معلوم ہو گیا کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں۔ چنانچہ فجر کی نماز سب لوگوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ پڑھی۔ جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنماز پڑھا چکے تو لوگ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے آئے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمانہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا:”میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں؟“انصار رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:”جی ہاں، یا رسول اللہ!“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہیں خوشخبری ہو، اور اس چیز کے لیے تم پر امید ہو جس سے تمہیں خوشی ہوگی، لیکن اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں محتاجی اور فقر سے نہیں ڈرتا۔ مجھے اگر خوف ہے تو اس بات کا کہ دنیا کے دروازے تم پر اس طرح کھول دیے جائیں گے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کھول دیے گئے تھے، تو ایسا نہ ہو کہ تم بھی ان کی طرح ایک دوسرے سے جلنے لگو اور یہ جلنا تم کو بھی اسی طرح تباہ کر دے جیسا کہ پہلے لوگوں کو کیا تھا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1866]
