العربية (الأصل)
1853 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي النَّاسِ، فَأَثْنى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنِّي أُنْذِرُ كُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ
الترجمة الإنجليزية
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: The Prophet (peace be upon him) stood among the people, praised Allah as He deserves, then mentioned the Dajjal and said: "I warn you about him. There is no prophet who did not warn his people about him. Nuh warned his people about him. But I will tell you something about him that no prophet told his people: Know that he is one-eyed, and Allah is not one-eyed."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے صحابہ کو خطاب فرمایا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کی شان کے لائق تھی، پھر دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا:”میں بھی تمہیں اس کے (فتنوں سے) ڈراتا ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے فتنوں سے نہ ڈرایا ہو، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1853]
