العربية (الأصل)
1811 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤْتَى بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ، فَيُنَادِي مُنَادٍ، يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرونَ فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هذَا فَيَقُولُونَ: نَعَمْ هذَا الْمَوْتُ وَكلُّهُمْ قَدْ رَأَوْهُ ثُمَّ يُنَادِي: يَا أَهْلَ النَّارِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هذَا فَيَقُولُونَ: نَعَمْ هذَا الْمَوْتُ وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآه فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ، فَلاَ مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّار خُلُودٌ، فَلاَ مَوْتَ ثُمَّ قَرَأَ(وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ، وَهؤُلاَءِ فِي غَفْلَةٍ، أَهْل الدُّنْيَا، وَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ)
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever enters Paradise will enjoy bliss and not suffer, his garments will not wear out, and his youth will never end."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا: کیا تم اس مینڈھے کو پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں! یہ موت ہے، اور ان میں سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾[سورة مريم: 39](اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرا دو، جبکہ اخیر فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے (یعنی دنیا دار لوگ) ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔)[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1811]
