العربية (الأصل)
18 صحيح حديث مُعاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ: بَيْنا أَنا رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بَيْني وَبَيْنَهُ إِلاّ أَخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقالَ: يا مُعاذ قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ ثُمَّ سَارَ ساعَةً ثُمَّ قَالَ: يا مُعاذ قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ ثُمَّ سارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: يا مُعاذ قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: هَلْ تَدْري ما حَقُّ اللهِ عَلى عِبادِهِ قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: حَقُّ اللهِ عَلى عِبادِهِ أَنْ يَعْبُدوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئاً ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: يا مُعاذُ بْنُ جَبَلٍ قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، فَقَالَ: هَلْ تَدْري ما حَقُّ الْعِبادِ عَلى اللهِ إِذَا فَعَلُوهُ قُلْتُ اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: حَقُّ الْعِبادِ عَلى اللهِ أَنْ لا يُعَذِّبَهُمْ
الترجمة الإنجليزية
Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) said: I was riding behind the Prophet (peace be upon him), with nothing between us except the back of the saddle. He said: "O Mu'adh." I said: "At your service, O Messenger of Allah." Then he rode for a while and said: "O Mu'adh." I said: "At your service, O Messenger of Allah." Then he rode for a while and said: "O Mu'adh." I said: "At your service, O Messenger of Allah." He said: "Do you know what is the right of Allah upon His servants?" I said: "Allah and His Messenger know best." He said: "The right of Allah upon His servants is that they worship Him and not associate anything with Him." Then he rode for a while and said: "O Mu'adh ibn Jabal." I said: "At your service, O Messenger of Allah." He said: "Do you know what is the right of the servants upon Allah if they do that?" I said: "Allah and His Messenger know best." He said: "The right of the servants upon Allah is that He does not punish them."
الترجمة الأردية
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے اور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے درمیان کجاوے کی پچھلی لکڑی کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں تھی، اسی حالت میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے معاذ!“(میں بولا) یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممیں حاضر ہوں، آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے تیار ہوں، پھر آپ تھوڑی دیر تک چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا:”اے معاذ!“میں بولا: یا رسول اللہ حاضر ہوں، آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں، پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا:”اے معاذ!“میں نے عرض کیا: حاضر ہوں یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمآپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں، اس کے بعد نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہیں معلوم ہے اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟“میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق یہ ہے کہ بندے خاص اس کی ہی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں“، پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا:”معاذ!“میں نے عرض کیا: حاضر ہوں یا رسول اللہ آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہیں معلوم ہے بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے جب کہ وہ یہ کام کر لیں؟“میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا:”پھر بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 18]
