العربية (الأصل)
1778 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَكُونُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ، كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ، نُزُلاً لأَهْلِ الْجَنَّةِ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: بَارَكَ الرَّحْمنُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ: بَلَى قَالَ: تَكُونُ الأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، ثُمَّ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ: أَلاَ أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ: إِدَامُهُمْ بَالاَمٌ وَنُونٌ قَالُوا: وَمَا هذَا قَالَ: ثَوْرٌ وَنُونٌ، يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Sa'id al-Khudri: The Prophet (peace be upon him) said: "On the Day of Resurrection, the earth will be a single loaf that the Almighty will handle as one of you handles his bread on a journey, as a welcome for the people of Paradise." A Jewish man came and said: "May the Most Merciful bless you, O Abu al-Qasim! Shall I not tell you about the welcome for the people of Paradise on the Day of Resurrection?" He said: "Yes." He said: "The earth will be a single loaf," as the Prophet (peace be upon him) said. The Prophet (peace be upon him) looked at us and laughed until his premolars were visible. Then he said: "Shall I not tell you about their condiment?" He said: "Their condiment will be balam and nun (a type of fish)." They asked: "What is this?" He said: "A bull and a fish — seventy thousand will eat from the excess of their livers."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی الٹتے پلٹتے ہو۔“پھر ایک یہودی آیا اور بولا: اے ابو القاسم! تم پر رحمن برکت نازل کرے، کیا میں تمہیں قیامت کے دن اہل جنت کی سب سے پہلی ضیافت کے بارے میں خبر نہ دوں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیوں نہیں۔“تو اس نے (بھی یہی) کہا کہ ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جیسا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تھا۔ پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ہماری طرف دیکھا اور مسکرائے جس سے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ پھر (اس نے) پوچھا: کیا میں تمہیں اس کے سالن کے متعلق خبر نہ دوں؟ (پھر خود ہی) بولا کہ اس کا سالن«بَالامٌ وَنُونٌ»”بالام اور نون“ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یہ کیا چیز ہے؟ اس نے کہا: بیل اور مچھلی جس کی کلیجی کے ساتھ زائد چربی والے حصے کو ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1778]
