العربية (الأصل)
1611 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ، فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا، فَأَقُصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي، فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ، وَإِذَا فِيهَا أُنَاسٌ، قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ قَالَ: فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ، فَقَالَ لِي: لَمْ تُرَعْ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ، بَعْدُ، لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً
الترجمة الإنجليزية
Narrated 'Abdullah ibn 'Umar (may Allah be pleased with them): During the lifetime of the Prophet (peace be upon him), when a person had a dream, he would narrate it to the Messenger of Allah. I wished I could see a dream and narrate it to the Messenger of Allah. I was a young boy and used to sleep in the mosque during the Prophet's time. I saw in a dream that two angels took me and brought me to the Fire. It was walled like a well and had two horns. In it were people I recognized. I began saying, "I seek refuge in Allah from the Fire!" Then another angel met us and said to me, "Do not be afraid." I told this to Hafsah, and she told the Messenger of Allah (peace be upon him). He said, "What an excellent man 'Abdullah is — if only he would pray during the night." After that, he would sleep very little at night.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زندگی میں جب بھی کوئی (آدمی) خواب دیکھتا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کرتا (آپصلی اللہ علیہ وسلمتعبیر دیتے)، میرے بھی دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھتا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کرتا۔ میں ابھی نوجوان تھا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکے زمانے میں مسجد میں سوتا تھا، چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے، میں نے دیکھا کہ دوزخ پر کنویں کی طرح بندش ہے (یعنی اس پر کنویں کی سی منڈیر بنی ہوئی ہے) اس کے دو جانب تھے۔ دوزخ میں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا جنھیں میں پہچانتا تھا۔ میں کہنے لگا:«أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ»”میں نے دوزخ سے اللہ کی پناہ مانگی“۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم کو ایک فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا:«لَنْ تُرَاعَ»”ڈرو نہیں۔“یہ خواب میں نے (اپنی بہن) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا اور انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو، تعبیر میں آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ“”عبداللہ بہت خوب لڑکا ہے۔ کاش! رات میں نماز پڑھا کرتا۔“(راوی نے کہا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے اس فرمان کے بعد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات میں بہت کم سوتے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1611]
