العربية (الأصل)
1608 صحيح حديث جَرِيرٍ رضي الله عنه، قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا
الترجمة الإنجليزية
Narrated Jarir (may Allah be pleased with him): The Prophet (peace be upon him) never screened himself from me since I embraced Islam, and whenever he saw me, he would smile. I once complained to him that I could not sit firmly on a horse. He struck my chest with his hand and said, "O Allah, make him firm and make him a guiding guide and rightly guided."
الترجمة الأردية
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں اسلام لایا، رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے (پردہ کے ساتھ) مجھے (اپنے گھر میں داخل ہونے سے) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپصلی اللہ علیہ وسلممجھ کو دیکھتے، خوشی سے مسکرانے لگتے۔ ایک دفعہ میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں شکایت کی کہ میں گھوڑے کی سواری پر اچھی طرح نہیں جم پاتا ہوں، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے میرے سینے پر اپنا دستِ مبارک مارا، اور دعا کی:«اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا»”اے اللہ! اسے گھوڑے پر جما دے اور دوسروں کو سیدھا راستہ بتانے والا بنا دے اور خود اسے بھی سیدھے راستے پر قائم رکھیے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1608]
