العربية (الأصل)
1550 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَخَلْت الْجَنَّةَ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا فَقُلْتُ: لِمَنْ هذَا قَالُوا: لِعُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلاَّ عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللهِ أَوَ عَلَيْكَ أَغَارُ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Jabir ibn 'Abdullah (may Allah be pleased with them): The Prophet (peace be upon him) said, "I entered Paradise — or I came to Paradise — and saw a palace. I asked, 'Whose is this?' They said, 'It belongs to 'Umar ibn al-Khattab.' I wanted to enter it, but nothing prevented me except my knowledge of your sense of honor." 'Umar ibn al-Khattab said, "O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you, O Prophet of Allah! Would I feel protective jealousy against you?"
الترجمة الأردية
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں جنت میں داخل ہوا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) میں جنت میں گیا، وہاں میں نے ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی۔“اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اے اللہ کے نبی! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1550]
