العربية (الأصل)
1518 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَرَخَّصَ فِيهِ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ، فَبَلَغَ ذلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ، فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ فَوَاللهِ إِنِّي لأَعْلَمُهُمْ بِاللهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I saw a man enjoying himself in Paradise because of a tree that he had cut down from the road that had been bothering the people."
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کا نہ کرنا اچھا جانا۔ جب آپصلی اللہ علیہ وسلمکو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد کے بعد فرمایا:”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اس کام سے پرہیز کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں، اللہ کی قسم! میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1518]
