العربية (الأصل)
1465 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِه فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِطْعَةُ جَرِيدٍ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ، فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: لَوْ سَأَلْتَنِي هذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللهِ فِيكَ؛ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللهُ وَإِنِّي لأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيه مَا رَأَيْتُ وَهذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْه قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ أُرَى الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا رَأَيْتُ
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said: Musaylimah the Liar arrived during the time of the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: "If Muhammad appoints me as his successor, I will follow him." He arrived with a large number of his people. The Messenger of Allah (peace be upon him) went to him, accompanied by Thabit ibn Qays ibn Shammas, holding a piece of palm branch in his hand. He stood before Musaylimah and his companions and said: "If you were to ask me even for this piece of palm branch, I would not give it to you. You cannot escape Allah's decree regarding you. If you turn away, Allah will destroy you. And I see that you are the one about whom I was shown a dream." Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said: "While I was sleeping, I saw two gold bracelets on my arms, which troubled me. Then I was inspired in the dream to blow on them, so I blew on them and they flew away. I interpreted them as two liars who would emerge after me: one of them is al-Anasi, and the other is Musaylimah."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے عہد میں مسیلمہ کذاب آیا، اس دعویٰ کے ساتھ کہ اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلممجھے اپنے بعد (اپنا نائب و خلیفہ) بنا دیں تو میں ان کی اتباع کر لوں، اس کے ساتھ اس کی قوم (بنو حنیفہ) کا بہت بڑا لشکر تھا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلماس کی طرف تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی، جہاں مسیلمہ اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ کیے ہوئے تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلموہیں جا کر ٹھہر گئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے فرمایا:”اگر تو مجھ سے یہ ٹہنی مانگے گا تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا اور تو اللہ کے اس فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا جو تیرے بارے میں پہلے ہی ہو چکا ہے، تو نے اگر میری اطاعت سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے گا۔ میرا تو خیال ہے کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا، اب تیری باتوں کا جواب میری طرف سے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ دیں گے۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمواپس تشریف لائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے اس ارشاد کے متعلق پوچھا کہ”میرا خیال تو یہ ہے کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرؤيا/حدیث: 1465]
