العربية (الأصل)
1435 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُول اللهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا فَقَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is no contagion, no (evil omen in the month of) Safar, and no hama (superstitious belief about owls)." A Bedouin said: "O Messenger of Allah, what about camels that are in the sand like gazelles — then a mangy camel comes among them and they all get mange?" He said: "Then who infected the first one?"
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”امراض میں چھوت چھات، صفر اور الو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں۔“اس پر ایک اعرابی بولا: یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح (صاف اور خوب چکنے) رہتے ہیں، پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے؟ تو آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے اس پر فرمایا:”لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1435]
