العربية (الأصل)
1420 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ رضي الله عنه، قَالَ: انْطَلَقَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا، حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ فَلُدِغَ سَيِّدُ ذلِكَ الْحَيِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لاَ يَنْفَعُهُ شَيْءٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هؤُلاَءِ الرَّهْطَ الَّذِين نَزَلُوا، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا: يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ، وَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لاَ يَنْفَعُهُ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَعَمْ وَاللهِ إِنِّي لأَرْقِي، وَلكِنْ وَاللهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا، فَمَا أَنَا بَرَاقٍ لَكمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلاً فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعِ مِنَ الْغَنَمِ فَانْطَلَقَ يَتْفِلُ عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ(الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَا بِهِ قَلَبَةٌ قَالَ: فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اقْسِمُوا فَقَالَ الَّذِي رَقَى لاَ تَفْعَلُوا، حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ، فَنَنْظرَ مَا يَأْمُرُنَا فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ فَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ: قَدْ أَصَبْتُمُ، اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Sa'id: A group of the Prophet's Companions set out on a journey until they camped near one of the Arab tribes. They asked for hospitality, but the tribe refused to host them. The chief of that tribe was stung, and they tried everything but nothing helped him. Some of them said: "Why not go to those travelers? Perhaps one of them has something." They went to them and said: "O people, our chief has been stung and we have tried everything, but nothing helps. Do any of you have anything?" One of them said: "Yes, by Allah, I can perform ruqyah, but by Allah, we asked you for hospitality and you refused, so I will not perform ruqyah for you until you give us something in return." They agreed on a flock of sheep. He went and began spitting and reciting al-Fatihah (the Opening of the Book). The chief recovered as if released from a bond and began walking with no ailment. They paid them what they had agreed upon. Some said: "Divide it." But the one who performed the ruqyah said: "Do not do so until we go to the Prophet (peace be upon him) and tell him what happened, and see what he commands." They came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and told him. He said: "How did you know it was a ruqyah?" Then he said: "You were right. Divide it and give me a share with you." And the Messenger of Allah (peace be upon him) laughed.
الترجمة الأردية
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے کچھ صحابہ رضی اللہ عنهم سفر میں تھے، دورانِ سفر وہ عرب کے ایک قبیلے پر اترے۔ صحابہ رضی اللہ عنهم نے چاہا کہ قبیلے والے انہیں اپنا مہمان بنا لیں، لیکن انہوں نے مہمانی نہیں کی، بلکہ صاف انکار کر دیا۔ اتفاق سے اسی قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، قبیلے والوں نے ہر طرح کی کوشش کر ڈالی، لیکن ان کا سردار اچھا نہ ہوا۔ ان کے کسی آدمی نے کہا کہ چلو ان لوگوں سے بھی پوچھیں جو یہاں آ کر اترے ہیں، ممکن ہے کوئی دم جھاڑ کی چیز ان کے پاس ہو۔ چنانچہ قبیلے والے ان کے پاس آئے اور کہا کہ اے بھائیو! ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے، اس کے لیے ہم نے ہر قسم کی کوشش کر ڈالی لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا، کیا تمہارے پاس کوئی چیز دم کرنے کی ہے؟ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں اسے جھاڑ دوں گا، لیکن ہم نے تم سے میزبانی کے لیے کہا تھا اور تم نے اس سے انکار کر دیا، اس لیے میں بھی اجرت کے بغیر نہیں جھاڑ سکتا، آخر بکریوں کے ایک گلے پر ان کا معاملہ طے ہوا۔ وہ صحابی رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾[سورة الفاتحة: 2]پڑھ پڑھ کر دم کیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کسی کی رسی کھول دی گئی ہو، وہ سردار اٹھ کر چلنے لگا اور تکلیف و درد کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے طے شدہ اجرت صحابہ رضی اللہ عنهم کو ادا کر دی۔ کسی نے کہا کہ اسے تقسیم کر لو، لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا، وہ بولے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہو کر پہلے ہم آپصلی اللہ علیہ وسلمسے اس کا ذکر کر لیں، اس کے بعد دیکھیں گے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکیا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ سب حضرات رسولِ کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمسے اس کا ذکر کیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورت فاتحہ بھی ایک رقیہ ہے؟“اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم نے ٹھیک کیا۔ اسے تقسیم کر لو اور ایک میرا حصہ بھی لگاؤ۔“یہ فرما کر رسولِ کریمصلی اللہ علیہ وسلمہنس پڑے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1420]
