العربية (الأصل)
1390 صحيح حديث أَنَسٍ: قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْر، وقال أحبه فَطِيمٌ وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغيْرُ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ
الترجمة الإنجليزية
Anas (may Allah be pleased with him) said: The Prophet (peace be upon him) had the best character among people. I had a brother called Abu 'Umayr - he (the narrator) said he was a weaned child. Whenever the Prophet (peace be upon him) came, he would say to him playfully: "O Abu 'Umayr, what happened to the little bird (nughayr)?" It was a small bird he used to play with.
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمحسنِ اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے، میرا ایک بھائی ابو عمیر نامی تھا۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچے کا دودھ چھوٹ چکا تھا۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمجب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے:«يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟»”یا ابو عمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟“وہ اس بچے کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1390]
