العربية (الأصل)
1366 صحيح حديث عَائِشَةَ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رضي الله عنها، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْهُ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُوبُ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ هذِهِ النُّمْرُقَةِ قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَصْحَابِ هذِهِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعَذَّبُونَ فَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ وَقَالَ: إِنَّ الْبيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "When it becomes very hot, delay the prayer until it cools down, for the severity of heat comes from the blowing of the Hellfire."
الترجمة الأردية
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے ایک گدا خریدا جس پر مورتیں تھیں۔ رسولِ کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی نظر جوں ہی اس پر پڑی، آپصلی اللہ علیہ وسلمدروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور اندر داخل نہیں ہوئے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے چہرہ مبارک پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو عرض کی، یا رسول اللہ! میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمسے معافی مانگتی ہوں۔ فرمائیے مجھ سے کیا غلطی ہوئی؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ گدا کیسا ہے؟“میں نے کہا کہ میں نے یہ آپصلی اللہ علیہ وسلمہی کے لیے خریدا ہے، تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس سے ٹیک لگائیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”لیکن اس طرح کی مورتیں بنانے والے لوگ قیامت کے دن عذاب کیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے جس چیز کو بنایا اسے زندہ کر کے دکھاؤ۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ بھی فرمایا کہ”جن گھروں میں مورتیں ہوتی ہیں (رحمت کے) فرشتے ان میں داخل نہیں ہوتے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1366]
