العربية (الأصل)
1201 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْغُلُولَ، فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ، قَالَ: لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ، عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ؛ وَعَلَى رَقَبَتِهِ بعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ؛ وَعَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ؛ أَوْ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) said: The Prophet (peace be upon him) stood among us and mentioned ghulul (embezzlement from war booty), emphasizing its gravity. He said: "Let me not find any one of you on the Day of Judgment with a bleating sheep on his neck, or a neighing horse on his neck, saying: 'O Messenger of Allah, help me!' I will say: 'I can do nothing for you; I conveyed the message to you.' Or with a groaning camel on his neck, saying: 'O Messenger of Allah, help me!' I will say: 'I can do nothing for you; I conveyed the message to you.' Or with gold and silver on his neck, saying: 'O Messenger of Allah, help me!' I will say: 'I can do nothing for you; I conveyed the message to you.' Or with fluttering garments on his neck, saying: 'O Messenger of Allah, help me!' I will say: 'I can do nothing for you; I conveyed the message to you.'"
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں خطاب فرمایا اور غلول (خیانت) کا ذکر فرمایا، اس جرم کی ہولناکی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:”میں تم سے کسی کو بھی قیامت کے دن اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری لدی ہوئی ہو اور وہ چلا رہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا لدا ہوا ہو اور وہ چلا رہا ہو اور وہ شخص مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، میں تو (خدا کا پیغام) تمہیں پہنچا چکا تھا۔ اور اس کی گردن پر اونٹ لدا ہوا ہو اور چلا رہا ہو، اور وہ شخص کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیں۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، میں تو خدا کا پیغام تمہیں پہنچا چکا ہوں، یا (وہ اس حال میں آئے کہ) وہ اپنی گردن پر سونا، چاندی، اسباب لادے ہوئے ہو اور مجھ سے کہے: یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے، لیکن میں اس سے یہ کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، میں اللہ تعالیٰ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1201]
