العربية (الأصل)
1186 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالأُولَى، وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدٍ، قَالَ: فَلَقِيَنِي غُلاَمٌ لِعَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا قَالَ: غَطَفَانُ قَالَ: فَصَرَخْتُ ثَلاَثَ صَرَخَاتٍ، يَا صَبَاحَاهُ قَالَ: فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لاَبَتَي الْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي وَكُنْتُ رَامِيًا، وَأَقُولُ: أَنَا ابْنُ الأَكْوَعْ الْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ وَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلاَثِينَ بُرْدَةً قَالَ: وَجَاءَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ، فَابْعَثْ إِلَيْهِمِ السَّاعَةَ فَقَالَ: يَا ابْنَ الأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ قَالَ: ثُمَّ رَجَعْنَا، وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ، حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Salamah ibn al-Akwa: I went out before the first call to prayer, and the she-camels of the Messenger of Allah (peace be upon him) were grazing at Dhi Qarad. A servant of Abd al-Rahman ibn Awf met me and said: "The she-camels of the Messenger of Allah (peace be upon him) have been taken!" I said: "Who took them?" He said: "Ghatafan." I shouted three times: "Help! Help!" making my voice reach between the two lava fields of Medina. Then I rushed forward until I caught up with them while they were drawing water. I began shooting arrows at them — I was an archer — saying: "I am Ibn al-Akwa, today is the day of the sucklings!" I kept chanting rajaz poetry until I rescued the she-camels from them and seized thirty cloaks from them. The Prophet (peace be upon him) and the people came, and I said: "O Prophet of Allah, I have kept the people away from the water and they are thirsty, so send after them now." He said: "O Ibn al-Akwa, you have gained the upper hand, so be lenient." Then we returned, with the Messenger of Allah (peace be upon him) carrying me behind him on his she-camel until we entered Medina.
الترجمة الأردية
سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فجر کی اذان سے پہلے میں (مدینہ سے باہر غابہ کی طرف نکلا) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی دودھ دینے والی اونٹنیاں ذات القرد میں چرا کرتی تھیں، انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں مجھے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ملے اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی اونٹنیاں پکڑ لی گئی ہیں، میں نے پوچھا کہ کس نے پکڑا انہیں؟ انہوں نے بتایا کہ قبیلہ غطفان والوں نے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے تین مرتبہ بڑی زور زور سے پکارا:«يَا صَبَاحَاهُ»”ہائے صبح کی پکار!“انہوں نے بیان کیا کہ اپنی آواز میں نے مدینہ کے دونوں کناروں تک پہنچا دی اور اس کے بعد میں سیدھا تیزی کے ساتھ دوڑتا ہوا آگے بڑھا اور آخر انہیں جا لیا۔ اس وقت وہ جانوروں کو پانی پلانے کے لیے اترے تھے۔ میں نے ان پر تیر برسانے شروع کر دیے، میں تیر اندازی میں ماہر تھا اور یہ شعر کہتا جاتا تھا:«أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ»”میں ابن الاکوع ہوں، آج ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے“میں یہی رجز پڑھتا رہا اور آخر اونٹنیاں ان سے چھڑا لیں بلکہ تیس چادریں ان کی میرے قبضے میں آ گئیں۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبھی صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر آگئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تیر مار مار کر ان کو پانی نہیں پینے دیا اور وہ ابھی پیاسے ہیں، آپ فوراً ان کے تعاقب کے لیے فوج بھیج دیجیے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے ابن الاکوع! جب تو نے کسی پر قابو پا لیا تو پھر نرمی اختیار کیا کر۔“سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، پھر ہم واپس آگئے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممجھے اپنی اونٹنی پر پیچھے بٹھا کر لائے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1186]
