العربية (الأصل)
1141 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ: لاَ يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِي بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا، وَلاَ أَحَدٌ بَنَى بُيُوتًا وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُوفَهَا، وَلاَ أَحَدٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلاَدَهَا فَغَزَا، فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلاَةَ الْعَصْرِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ: إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ؛ فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ، فَجَاءَتْ(يَعْنِي النَّارَ)لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا؛ فَقَالَ: إِنَّ فِيكُمْ غُلُولاً، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قبيلة رَجُلٌ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيدِهِ فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْيُبَايِعْنِى قَبِيلَتُكَ فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةٍ بِيَدِهِ فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ فَجَاءُوأ بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْس بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعُوهَا، فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا ثُمَّ أَحَلَّ اللهُ لَنَا الْغَنَائِمَ، رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A prophet from among the prophets went on a military expedition and said to his people: 'No man who has married a woman and wishes to consummate the marriage but has not yet done so should follow me. Nor should anyone who has built houses but has not yet raised their roofs, nor anyone who has bought sheep or pregnant she-camels and is waiting for their offspring.' So he went on the expedition, and when he approached the town near the time of Asr prayer, he said to the sun: 'You are commanded and I am commanded. O Allah, hold it back for us.' So it was held back until Allah granted him victory. He then gathered the spoils of war, and the fire came to consume them but did not. He said: 'There is treachery among you. Let one man from each tribe pledge allegiance to me.' The hand of one man stuck to his hand. He said: 'The treachery is among your tribe. Let your tribe pledge allegiance to me.' The hands of two or three men stuck to his hand. He said: 'The treachery is among you.' They brought a head of gold the size of a cow's head and placed it among the spoils, and the fire came and consumed them. Then Allah made the spoils of war lawful for us. He saw our weakness and inability, so He made them lawful for us."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ایک نبی (یوشع علیہ السلام) نے غزوہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی قوم (بنی اسرائیل) سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص جس نے ابھی نئی شادی کی ہو اور بیوی کے ساتھ کوئی رات بھی نہ گزاری ہو اور وہ رات گزارنا چاہتا ہو، اور وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ پاٹ سکا ہو، اور وہ شخص جس نے (حاملہ) بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو، تو (ایسے لوگوں میں سے کوئی بھی) ہمارے ساتھ جہاد میں نہ چلے۔ پھر انہوں نے جہاد کیا، اور جب اس آبادی (اریحا) سے قریب ہوئے تو عصر کا وقت ہو گیا یا اس کے قریب وقت ہوا۔ انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی اللہ کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے اسے اپنی جگہ پر روک دے۔ چنانچہ سورج رک گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے اموالِ غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لیے آئی لیکن جلا نہ سکی، اس پر ان نبی نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے مالِ غنیمت میں چوری کی ہے۔ اس لیے ہر قبیلے کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے (جب بیعت کرنے لگے تو) ایک قبیلے کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ چوری تمہارے ہی قبیلے والوں نے کی ہے۔ اب تمہارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں۔ چنانچہ اس قبیلے کے دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ اس طرح ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، تو آپ نے فرمایا کہ چوری تم ہی لوگوں نے ہی کی ہے۔ (آخر چوری مان لی گئی) اور وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے (جو غنیمت میں سے چرا لیا گیا تھا) اور اسے مالِ غنیمت میں رکھ دیا، تب آگ آئی اور اسے جلا گئی، پھر غنیمت اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جائز قرار دے دی، ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا، اس لیے ہمارے واسطے حلال قرار دے دی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1141]
