العربية (الأصل)
1123 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ: هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ: فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ: مَالَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا
الترجمة الإنجليزية
Zayd ibn Khalid (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and asked him about found items. He said: "Note carefully the container and the string that ties it, then announce it for a year. If its owner comes, give it to him. Otherwise, it is yours to use." The man asked: "What about a stray sheep?" He said: "It is for you, or for your brother, or for the wolf." The man asked: "What about a stray camel?" He said: "What business do you have with it? It has its water supply and its hooves. It can drink water and eat from the trees until its owner finds it."
الترجمة الأردية
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں ایک شخص آیا اور آپ سے لقطہ (راستے میں کسی کی گم ہوئی چیز جو پا لی گئی ہو) کے متعلق پوچھا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کی خوب جانچ پڑتال کر لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اس عرصے میں اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو) ورنہ پھر وہ چیز تمہاری ہے۔“سائل نے پوچھا: اور گمشدہ بکری؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑیے کی ہے۔“سائل نے پوچھا: اور گمشدہ اونٹ؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اسے سیراب رکھنے والی چیز ہے اور اس کا کُھر ہے۔ پانی پر بھی وہ جا سکتا ہے اور درخت (کے پتے) بھی کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا جائے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللقطة/حدیث: 1123]
