العربية (الأصل)
1121 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا، جَاءَ الذِّئْب فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ؛ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضى بِهِ لِلْكُبْرَى؛ فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُغْرَى: لاَ تَفْعَلْ، يَرْحَمُكَ اللهُ، هُوَ ابْنُهَا فَقَضى بِهِ لِلصُّغْرَى
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There were two women, each with her son. A wolf came and took one of their sons. One said to the other: 'It took your son.' The other said: 'No, it took your son.' They took their case to Dawud (David, peace be upon him), who judged in favor of the older woman. They then went to Sulayman ibn Dawud (Solomon, peace be upon him) and told him. He said: 'Bring me a knife and I will cut the child in two halves between them.' The younger woman said: 'Do not do that, may Allah have mercy on you! He is her son.' So he judged in favor of the younger woman."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ارشاد فرماتے سنا:”دو عورتیں تھیں اور دونوں کے ساتھ ان کے بچے تھے۔ اتنے میں ایک بھیڑیا آیا اور ایک عورت کے بچے کو اٹھا لے گیا۔ ان دونوں میں سے ایک عورت نے کہا کہ بھیڑیا تمہارے بیٹے کو لے گیا اور دوسری نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے۔ دونوں داؤد علیہ السلام کے یہاں اپنا مقدمہ لے گئیں۔ آپ نے بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ اس کے بعد وہ دونوں سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے یہاں آئیں اور انہیں اس جھگڑے کی خبر دی۔ انہوں نے فرمایا کہ اچھا چھری لاؤ اس بچے کے دو ٹکڑے کرکے دونوں کے درمیان بانٹ دوں۔ چھوٹی عورت نے یہ سن کر کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! ایسا نہ کیجیے، میں نے مان لیا کہ یہ اسی بڑی کا لڑکا ہے۔ اس پر سلیمان علیہ السلام نے اس چھوٹی کے حق میں فیصلہ کیا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأقضية/حدیث: 1121]
