العربية (الأصل)
1094 صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّموَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا؛ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاَثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مَضَرَ، الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ؛ أَيُّ شَهْرٍ هذَا قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ ذُو الْحِجَّةِ قُلْنَا: بَلَى قَالَ: فَأَيُّ بَلَدٍ هذَا قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ قُلْنَا: بَلَى قَالَ: فَأَيُّ يَوْمٍ هذَا قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغيْرِ اسْمِهِ قَالَ: أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا: بَلَى قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ(أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ)وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هذَا فِي بَلَدِكُمْ هذَا في شَهْرِكُمْ هذَا؛ وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَسَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ أَنْ يُكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَن سَمِعهُ فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُولُ: صَدَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The nearest a servant comes to his Lord is when he is prostrating, so make abundant supplication (in prostration)."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”زمانہ اپنی اصل حالت پر گھوم کر آگیا ہے، اس دن کی طرح جب اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ دیکھو! سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں، چار ان میں سے حرمت والے مہینے ہیں۔ تین لگاتار ہیں: ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، (اور چوتھا)«رَجَبُ مُضَرَ»”رجب مضر“جو جمادی الاولیٰ اور شعبان کے بیچ میں پڑتا ہے۔“(پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا):”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکو بہتر علم ہے، اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمخاموش ہو گئے، ہم نے سمجھا شاید آپ مشہور نام کے سوا اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟“ہم بولے کہ کیوں نہیں، پھر دریافت فرمایا:”یہ شہر کون سا ہے؟“ہم بولے: اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکو بہتر علم ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمپھر خاموش ہو گئے، ہم نے سمجھا شاید اس کا کوئی اور نام آپ رکھیں گے جو مشہور نام کے علاوہ ہو گا، لیکن آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا یہ مکہ نہیں ہے؟“ہم بولے کہ کیوں نہیں (یہ مکہ ہی ہے)۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”اور یہ دن کون سا ہے؟“ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکو زیادہ بہتر علم ہے، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمخاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا شاید اس کا آپ اس کے مشہور نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا یہ«يَوْمُ النَّحْرِ»”یوم النحر (قربانی کا دن)“نہیں ہے؟“ہم بولے کہ کیوں نہیں، اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پس تمہارا خون اور تمہارا مال“محمد (حدیث کے ایک راوی) نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا:”اور تمہاری عزت تم پر اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ دن، تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں، اور تم جلد اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ اس لیے میرے بعد تم گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ ہاں، اور جو یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ جسے وہ پہنچائیں ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جو یہاں بعض سننے والوں سے زیادہ اس (حدیث) کو یاد رکھ سکتا ہو۔“محمد بن سیرین رحمہ اللہ جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلمنے سچ فرمایا، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تو کیا میں نے (پیغام الٰہی) پہنچا دیا؟“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دو مرتبہ یہ جملہ فرمایا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1094]
