العربية (الأصل)
1056 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَامُرُ بِهِ قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لاَ يُبَاعُ وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ، وَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ، لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ، غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ(الرَّاوِي): فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْن سِيرِينَ، فَقَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً
الترجمة الإنجليزية
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that Umar ibn al-Khattab acquired a piece of land in Khaybar. He came to the Prophet (peace be upon him) to consult him about it, saying: "O Messenger of Allah, I have acquired land in Khaybar. I have never obtained property more precious to me than it. What do you advise?" He said: "If you wish, you may retain the property and give its produce in charity." So Umar gave it in charity on the condition that it would not be sold, given away, or inherited. He donated it for the poor, relatives, freeing slaves, in the cause of Allah, for travelers, and for guests. There is no blame on the one managing it if he eats from it reasonably or feeds a friend, without accumulating wealth from it.
الترجمة الأردية
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک قطعہ زمین ملی تو آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں مشورے کے لیے حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں ایک زمین کا ٹکڑا ملا ہے اس سے بہتر مال مجھے اب تک کبھی نہیں ملا تھا، آپ اس کے متعلق کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ”اگر جی چاہے تو اصل زمین اپنی ملکیت میں باقی رکھ اور پیداوار صدقہ کر دے۔“ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اس شرط کے ساتھ صدقہ کر دیا کہ نہ اسے بیچا جائے گا نہ اس کا ہبہ کیا جائے گا اور نہ اس میں وراثت چلے گی۔ اسے آپ نے محتاجوں کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، غلام آزاد کرانے کے لیے، اللہ کے دین کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے اور مہمانوں کے لیے صدقہ (وقف) کر دیا اور یہ کہ اس کا متولی اگر دستور کے مطابق اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق وصول کر لے یا کسی محتاج کو دے تو اس پر کوئی الزام نہیں۔ ابن عون نے بیان کیا کہ جب میں نے اس حدیث کا ذکر ابن سیرین رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ (متولی) اس میں سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الوصية/حدیث: 1056]
