العربية (الأصل)
1049 صحيح حديث النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ، لاَ أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هذَا قَالَ: لاَ قَالَ فَاتَّقُوا اللهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ قَالَ: فَرَجَعَ، فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ
الترجمة الإنجليزية
Al-Nu'man ibn Bashir (may Allah be pleased with them both) said while on the pulpit: "My father gave me a gift. Amrah bint Rawahah (my mother) said: 'I will not be satisfied until you make the Messenger of Allah (peace be upon him) a witness.' My father came to the Messenger of Allah and said: 'I have given my son from Amrah bint Rawahah a gift, and she has asked me to make you a witness, O Messenger of Allah.' He asked: 'Have you given all your children the same?' He said: 'No.' He said: 'Fear Allah and treat your children justly.' My father returned and took back the gift."
الترجمة الأردية
سیدنا عامر نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا (نعمان کی والدہ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ (حاضرِ خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کی کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپصلی اللہ علیہ وسلمکو اس پر گواہ بنا لوں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”کیا اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟“انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔“چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الهبات/حدیث: 1049]
