العربية (الأصل)
نامِسْعَرٌ، عَنِالْحَجَّاجِمَوْلَى ثَعْلَبَةَ، عَنْقُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: مَنْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟ فَقَالَ لَهُزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: أَمَا إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَنْهَى عَنْ شَتْمِ الْهَلْكَى"، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ.
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The supplication of each of you is answered as long as he is not impatient and says: 'I supplicated but was not answered.'"
الترجمة الأردية
قطبہ بن مالک نے کہا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: علی بن ابی طالب کون ہیں؟ تو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: سنیں! یقیناً آپ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فوت شدگان کو برا بھلا کہنے سے منع کیا ہے تو آپ علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کیوں کہہ رہے ہیں، حالانکہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 269]
