العربية (الأصل)
عَنْ عَنْحَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ناالسَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ حَتَّى رَجَعْنَا، وَقَالَ حَمَّادٌ: يُعَظَّمُ الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا وَنَحنُ نُضَيِّعُ".
الترجمة الإنجليزية
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you becomes angry while standing, let him sit down. If the anger goes away, good. Otherwise, let him lie down."
الترجمة الأردية
سائب بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلا، میں نے نہیں سنا کہ انہوں نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسے ایک حدیث بھی بیان کی ہو، یہاں تک کہ ہم لوٹ آئے۔ حماد نے کہا کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے حدیث کی تعظیم اور سنگینی کی وجہ سے (ایسا کیا) اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان اور نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے درمیان ایسے اور ایسے (حدیثیں) بیان کرتے ہیں اور ہم ضائع کرتے ہیں۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 245]
