Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that meat was brought to the Messenger of Allah (peace be upon him), and the foreleg was raised to him — it was his favorite part — and he took a bite from it, then said: "I am the leader of mankind on the Day of Resurrection. Do you know why? Allah will gather the first and the last on a single plain where a caller can make them all hear and an eye can see them all. The sun will draw near, and the people will experience such grief and distress that they cannot bear. Some people will say to others: 'Do you not see what has reached you? Will you not look for someone to intercede for you with your Lord?' They will go to Adam, then to Nuh, then to Ibrahim, then to Musa, then to Isa — each will excuse himself — until they come to me. I will go and prostrate beneath the Throne. Then Allah will open to me praises of Him and fine expressions of glorification that He has never opened to anyone before me. Then it will be said: 'O Muhammad, raise your head. Ask and you shall be given. Intercede and your intercession shall be accepted.' I will raise my head and say: 'My Ummah, O Lord! My Ummah!' It will be said: 'Admit from your Ummah those who have no reckoning against them through the right gate of Paradise, and they shall share with the people through the other gates.' He said: 'By the One in Whose hand is my soul, the distance between the two door-leaves of the gates of Paradise is like the distance between Makkah and Hajar, or between Makkah and Busra.'"
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس گوشت لایا گیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف اس کی دستی بلند کی گئی اور وہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکو پسند تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس میں سے دانتوں سے نوچا، پھر فرمایا:”میں قیامت والے دن لوگوں کا سردار ہوں گا اور کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسے ہوگا؟ اللہ پہلے پچھلے تمام لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا، پکارنے والا انہیں سنا سکے گا، نگاہ انہیں پار کر جائے گی اور سورج قریب ہو جائے گا، لوگ غم اور کرب کی (اس انتہا کو) پہنچ جائیں گے کہ جس کی تاب رکھتے ہوں گے نہ برداشت کر پائیں گے، لوگ بعض بعض سے کہیں گے: لازماً آدم علیہ السلام کے پاس چلو، وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے: آپ انسانیت کے باپ ہیں، اللہ نے آپ علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ علیہ السلام میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو وہ آپ علیہ السلام کے لیے سجدہ ریز ہوئے، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کیجیے، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے جس (پریشانی) میں ہم ہیں، کیا آپ علیہ السلام اس کی طرف نہیں دیکھ رہے جو ہم کو پہنچا؟ تو آدم علیہ السلام ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس کی مثل اس سے پہلے غضب ناک نہیں ہوا اور نہ اس کی مثل اس کے بعد غضب ناک ہوگا اور بے شک اس نے مجھے اس درخت سے منع کیا تھا تو میں نے اس کی نافرمانی کی تھی، ہائے میری جان، میری جان! جاؤ میرے غیر کی طرف، نوح علیہ السلام کی طرف جاؤ، پھر وہ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے نوح علیہ السلام! آپ زمین والوں کی طرف پہلے رسول ہیں اور اللہ نے آپ علیہ السلام کا نام انتہائی شکرگزار بندہ رکھا ہے۔ ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے ہم کس (پریشانی) میں ہیں، کیا آپ علیہ السلام اس کی طرف نہیں دیکھ رہے جو ہم کو پہنچا؟ وہ کہیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس کی مثل اس سے پہلے غضب ناک نہیں ہوا اور نہ اس کی مثال اس کے بعد غضب ناک ہوگا اور بے شک میرے لیے ایک دعا (کا اختیار) تھا اور وہ بددعا میں اپنی قوم پر کر چکا، ہائے میری جان، میری جان! میرے غیر کی طرف جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کی طرف جاؤ، وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے ابراہیم علیہ السلام! آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے دوست ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس (پریشانی) میں ہیں؟ تو وہ ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد اتنا غضب ناک ہوگا اور بے شک میں نے تین خلاف واقع باتیں کی تھیں،“ابوحیان (راوی) نے حدیث میں ان کو ذکر کیا ہے۔”ہائے میری جان، میری جان، میرے غیر کی طرف جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کی طرف جاؤ۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے موسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ کے رسول ہیں، اس نے آپ کو اپنی رسالتوں اور کلام کے ساتھ لوگوں پر فضیلت دی، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس (پریشانی) میں ہیں؟ تو وہ کہیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس سے پہلے اتنا غضب ناک ہوا ہے اور نہ ہی اس کے بعد اتنا غضب ناک ہوگا اور بے شک میں نے ایک ایسی جان کو قتل کیا تھا کہ جسے قتل کرنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا، ہائے میری جان، میری جان، میرے غیر کی طرف جاؤ، عیسیٰ علیہ السلام کی طرف جاؤ۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے عیسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس کا وہ کلمہ ہیں جس کو مریم علیہ السلام کی طرف ڈالا اور اس کی روح ہیں اور آپ علیہ السلام نے گود میں لوگوں سے کلام کیا، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس (پریشانی) میں ہیں؟ تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس کی مثل اس سے پہلے غضب ناک ہوا اور نہ اس کی مثل اس کے بعد غضب ناک ہوگا“اور کسی گناہ کا ذکر نہیں کریں گے۔”ہائے میری جان، میری جان، میرے غیر کی طرف جاؤ، محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف جاؤ، وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! آپ اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے خاتم ہیں، اللہ نے آپ کے لیے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیے، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کیجیے، کیا آپصلی اللہ علیہ وسلمدیکھ نہیں رہے کہ ہم کس (پریشانی) میں ہیں؟ میں چلوں گا اور عرش کے نیچے آجاؤں گا، پھر اپنے رب کے لیے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، پھر اللہ میرے اوپر اپنی حمد اور اچھی تعریف میں سے وہ چیز کھولے گا جو مجھ سے پہلے کسی پر نہیں کھولی گئی ہوگی، پھر کہا جائے گا: اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! اپنا سر اٹھائیے، مانگیں آپ کو دیا جائے گا، سفارش کریں، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: میری امت، یا رب میری امت، یا رب میری امت! پس محمدصلی اللہ علیہ وسلمسے کہا جائے گا: آپ جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے اپنی امت میں اسے داخل کریں، جس پر کوئی حساب نہیں ہے اور وہ اس کے علاوہ دروازوں میں باقی لوگوں کے شریک ہوں گے۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے (دروازوں کے) کواڑوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان کا (فاصلہ) ایسے ہے جیسے مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان کا فاصلہ ہے۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 110]
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that meat was brought to the Messenger of Allah (peace be upon him), and the foreleg was raised to him — it was his favorite part — and he took a bite from it, then said: "I am the leader of mankind on the Day of Resurrection. Do you know why? Allah will gather the first and the last on a single plain where a caller can make them all hear and an eye can see them all. The sun will draw near, and the people will experience such grief and distress that they cannot bear. Some people will say to others: 'Do you not see what has reached you? Will you not look for someone to intercede for you with your Lord?' They will go to Adam, then to Nuh, then to Ibrahim, then to Musa, then to Isa — each will excuse himself — until they come to me. I will go and prostrate beneath the Throne. Then Allah will open to me praises of Him and fine expressions of glorification that He has never opened to anyone before me. Then it will be said: 'O Muhammad, raise your head. Ask and you shall be given. Intercede and your intercession shall be accepted.' I will raise my head and say: 'My Ummah, O Lord! My Ummah!' It will be said: 'Admit from your Ummah those who have no reckoning against them through the right gate of Paradise, and they shall share with the people through the other gates.' He said: 'By the One in Whose hand is my soul, the distance between the two door-leaves of the gates of Paradise is like the distance between Makkah and Hajar, or between Makkah and Busra.'"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس گوشت لایا گیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف اس کی دستی بلند کی گئی اور وہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکو پسند تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس میں سے دانتوں سے نوچا، پھر فرمایا:”میں قیامت والے دن لوگوں کا سردار ہوں گا اور کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسے ہوگا؟ اللہ پہلے پچھلے تمام لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا، پکارنے والا انہیں سنا سکے گا، نگاہ انہیں پار کر جائے گی اور سورج قریب ہو جائے گا، لوگ غم اور کرب کی (اس انتہا کو) پہنچ جائیں گے کہ جس کی تاب رکھتے ہوں گے نہ برداشت کر پائیں گے، لوگ بعض بعض سے کہیں گے: لازماً آدم علیہ السلام کے پاس چلو، وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے: آپ انسانیت کے باپ ہیں، اللہ نے آپ علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ علیہ السلام میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو وہ آپ علیہ السلام کے لیے سجدہ ریز ہوئے، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کیجیے، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے جس (پریشانی) میں ہم ہیں، کیا آپ علیہ السلام اس کی طرف نہیں دیکھ رہے جو ہم کو پہنچا؟ تو آدم علیہ السلام ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس کی مثل اس سے پہلے غضب ناک نہیں ہوا اور نہ اس کی مثل اس کے بعد غضب ناک ہوگا اور بے شک اس نے مجھے اس درخت سے منع کیا تھا تو میں نے اس کی نافرمانی کی تھی، ہائے میری جان، میری جان! جاؤ میرے غیر کی طرف، نوح علیہ السلام کی طرف جاؤ، پھر وہ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے نوح علیہ السلام! آپ زمین والوں کی طرف پہلے رسول ہیں اور اللہ نے آپ علیہ السلام کا نام انتہائی شکرگزار بندہ رکھا ہے۔ ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے ہم کس (پریشانی) میں ہیں، کیا آپ علیہ السلام اس کی طرف نہیں دیکھ رہے جو ہم کو پہنچا؟ وہ کہیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس کی مثل اس سے پہلے غضب ناک نہیں ہوا اور نہ اس کی مثال اس کے بعد غضب ناک ہوگا اور بے شک میرے لیے ایک دعا (کا اختیار) تھا اور وہ بددعا میں اپنی قوم پر کر چکا، ہائے میری جان، میری جان! میرے غیر کی طرف جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کی طرف جاؤ، وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے ابراہیم علیہ السلام! آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے دوست ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس (پریشانی) میں ہیں؟ تو وہ ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد اتنا غضب ناک ہوگا اور بے شک میں نے تین خلاف واقع باتیں کی تھیں،“ابوحیان (راوی) نے حدیث میں ان کو ذکر کیا ہے۔”ہائے میری جان، میری جان، میرے غیر کی طرف جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کی طرف جاؤ۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے موسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ کے رسول ہیں، اس نے آپ کو اپنی رسالتوں اور کلام کے ساتھ لوگوں پر فضیلت دی، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس (پریشانی) میں ہیں؟ تو وہ کہیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس سے پہلے اتنا غضب ناک ہوا ہے اور نہ ہی اس کے بعد اتنا غضب ناک ہوگا اور بے شک میں نے ایک ایسی جان کو قتل کیا تھا کہ جسے قتل کرنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا، ہائے میری جان، میری جان، میرے غیر کی طرف جاؤ، عیسیٰ علیہ السلام کی طرف جاؤ۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے عیسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس کا وہ کلمہ ہیں جس کو مریم علیہ السلام کی طرف ڈالا اور اس کی روح ہیں اور آپ علیہ السلام نے گود میں لوگوں سے کلام کیا، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ علیہ السلام دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس (پریشانی) میں ہیں؟ تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: بے شک میرا رب آج اتنا غصے میں ہے کہ اس کی مثل اس سے پہلے غضب ناک ہوا اور نہ اس کی مثل اس کے بعد غضب ناک ہوگا“اور کسی گناہ کا ذکر نہیں کریں گے۔”ہائے میری جان، میری جان، میرے غیر کی طرف جاؤ، محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف جاؤ، وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آجائیں گے اور کہیں گے: اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! آپ اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے خاتم ہیں، اللہ نے آپ کے لیے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیے، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کیجیے، کیا آپصلی اللہ علیہ وسلمدیکھ نہیں رہے کہ ہم کس (پریشانی) میں ہیں؟ میں چلوں گا اور عرش کے نیچے آجاؤں گا، پھر اپنے رب کے لیے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، پھر اللہ میرے اوپر اپنی حمد اور اچھی تعریف میں سے وہ چیز کھولے گا جو مجھ سے پہلے کسی پر نہیں کھولی گئی ہوگی، پھر کہا جائے گا: اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! اپنا سر اٹھائیے، مانگیں آپ کو دیا جائے گا، سفارش کریں، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: میری امت، یا رب میری امت، یا رب میری امت! پس محمدصلی اللہ علیہ وسلمسے کہا جائے گا: آپ جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے اپنی امت میں اسے داخل کریں، جس پر کوئی حساب نہیں ہے اور وہ اس کے علاوہ دروازوں میں باقی لوگوں کے شریک ہوں گے۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے (دروازوں کے) کواڑوں میں سے دو کواڑوں کے درمیان کا (فاصلہ) ایسے ہے جیسے مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان کا فاصلہ ہے۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 110]