العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَذْعَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَاكَ قَالَ " سِوَاىَ " . قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ أَنَا سَمِعْتُهُ .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from ‘Abdullah bin Abi Jad’a’ that he heard the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) say:“More than (the members of the tribe of) Banu Tamim will enter Paradise through the intercession of a man from among my nation.” They said: “O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), besides you?” He said: “Besides me.”
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کے نتیجہ میں بنو تمیم سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے علاوہ ( یعنی وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی ہے؟ ) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں ، میرے علاوہ، حضرت ابووائل شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے آپ ہی سے سنی ہے۔
