العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ يَا نَافِعُ قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا إِنِ اسْتَطَعْتَ وَلاَ تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلاَ صَبِيًّا صَغِيرًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَفِيهِ شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَفِي الْحِفْظِ فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ وَالْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ وَيَوْمَ الأَحَدِ تَحَرِّيًا وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالثُّلاَثَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللَّهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلاَءِ وَضَرَبَهُ بِالْبَلاَءِ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ لاَ يَبْدُو جُذَامٌ وَلاَ بَرَصٌ إِلاَّ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةَ الأَرْبِعَاءِ " .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“O Nafi’! The blood is boiling in me, find me a cupper, but let it be someone gentle if you can, not an old man or a young boy. For I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: ‘Cupping on an empty stomach is better, and in it there is healing and blessing, and it increases one’s intellect and memory. So have yourselves cupped for the blessing of Allah on Thursdays, and avoid cupping on Wednesdays, Fridays, Saturdays and Sundays. Have yourselves cupped on Mondays and Tuesdays, for that is the day on which Allah relieved Ayyub (upon him be peace) of Calamity, and He inflicted calamity upon him on a Wednesday, and leprosy and leucoderma only appear on Wednesdays, or on the night of Wednesday.”
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے ( اپنے غلام ) نافع سے کہا: نافع! میرے خون میں جوش ہے، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ، اللہ برکت دے گا، البتہ بدھ، جمعہ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو، پھر سوموار ( دوشنبہ ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے نجات دی، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا، چنانچہ جذام ( کوڑھ ) اور برص ( سفید داغ ) کی بیماریاں ( عام طور سے ) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں ۔
