العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، - أَوْ حَدَّثَنِي أَنَسٌ، - قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً عَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَالْمَعْصُورَةَ لَهُ وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ لَهُ وَبَائِعَهَا وَالْمُبْتَاعَةَ لَهُ وَسَاقِيَهَا وَالْمُسْتَقَاةَ لَهُ " . حَتَّى عَدَّ عَشَرَةً مِنْ هَذَا الضَّرْبِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas said:“The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) cursed ten with regard to wine: The one who squeezes (the grapes etc.), the one who asks for it to be squeezed, the one for whom it is squeezed, the one who carries it, the one to whom it is carried, the one who sells it, the one for whom it is brought, the one who pours it, the one for whom it is poured, until he counted ten like this.”
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی: اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے، اسے لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے، بیچنے والے پر، اس پر جس کو بیچی جائے، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا
