العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ، خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ لأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الأَرْضِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبِّ قَالَ " لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي آكُلُ مِمَّا لَمْ تُحَرِّمْ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ وَرَأَيْتُ خَلْقًا رَابَنِي " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الأَرْنَبِ قَالَ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " . قُلْتُ فَإِنِّي آكُلُ مِمَّا لَمْ تُحَرِّمْ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نُبِّئْتُ أَنَّهَا تَدْمَى " .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Khuzaimah bin Jaz’ said:“I said: ‘O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have come to you to ask you about the vermin of the earth. What do you say about mastigures?’ He said: ‘I do not eat them and I do not forbid them.’ I said: ‘I will eat of that which you have not forbidden. But why (do you not eat them), O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?’ He said: ‘One of the nations was turned into beasts and I looked at this creature and was uncertain.’ I said: ‘O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), what do you say about rabbits?’ He said: ‘I do not eat them and I do not forbid them.’ I said: ‘I will eat of that which you have not forbidden. But why (do you not eat them), O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?’ He said: ‘I have been told that it menstruates.’”
الترجمة الأردية
حضرت خزیمہ بن جزء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا کہ آپ سے زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کروں، آپ ضب ( گوہ ) کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ تو میں اسے کھاتا ہوں، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں میں نے عرض کیا: میں تو صرف ان چیزوں کو کھاؤں گا جسے آپ نے حرام نہیں کیا ہے، اور آپ ( ضب ) کیوں نہیں کھاتے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قوموں میں ایک گروہ گم ہو گیا تھا اور میں نے اس کی خلقت کچھ ایسی دیکھی کہ مجھے شک ہوا ( یعنی شاید یہ ضب- گوہ- وہی گمشدہ گروہ ہو ) میں نے عرض کیا: آپ خرگوش کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں ، میں نے عرض کیا: میں تو ان چیزوں میں سے کھاؤں گا جسے آپ حرام نہ کریں، اور آپ خرگوش کھانا کیوں نہیں پسند کرتے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ اسے حیض آتا ہے ۔
