العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِدَارٍ مِنْ دُورِ الأَنْصَارِ فَوَجَدَ رِيحَ قُتَارٍ فَقَالَ " مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ " . فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ لأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي . فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ مَا عِنْدِي إِلاَّ جَذَعٌ أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ . قَالَ " اذْبَحْهَا وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Abu Hadrat Zaid Al-Ansari (may Allah be well pleased with him) said:“The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) passed by one of the houses of the Ansar and noticed the smell of a cooking pot. He said: ‘Who is this who has slaughtered?’ A man from among us came out and said: ‘It is me, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I slaughtered before the prayer so that I could feed my family and neighbors.’ He commanded him to repeat it. He said: ‘No, by the One besides Whom there is none worthy of worship, I do not have anything but a one-year-old sheep or a lamb.’ He (blessings and peace of Allah be upon him) said: ‘Sacrifice it, but a one-year-old sheep will not do for anyone after you.’”
الترجمة الأردية
حضرت ابوزید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کس شخص نے ذبح کیا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا، اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا ۔
