العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاَةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ . حَتَّى آتِيَ عَلَى مُوسَى فَقَالَ مُوسَى مَاذَا افْتَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَىَّ خَمْسِينَ صَلاَةً . قَالَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ . فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ عَنِّي شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ . فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ . فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ . فَقُلْتُ قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) said:“The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: ‘Allah enjoined fifty prayers upon my nation, and I came back with that until I came to Musa (upon him be peace). Musa said: ‘What has your Lord enjoined upon your nation?’ I said: ‘He has enjoined fifty prayers on me.’ He said: ‘Go back to your Lord, for your nation will not be able to do that.’ So I went back to my Lord, and He reduced it by half. I went back to Musa and told him, and he said: ‘Go back to your Lord, for your nation will not be able to do that.’ So I went back to my Lord, and He said: ‘They are five and they are fifty; My Word does not change.’ So I went back to Musa and he said: ‘Go back to your Lord.’ I said: ‘I feel shy before my Lord.’”
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ( معراج کی رات ) میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں میرے اوپر فرض کی ہیں، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس پھر جائیں آپ کی امت انہیں ادا نہ کر سکے گی، میں اپنے رب کے پاس لوٹا، تو اس نے آدھی معاف کریں، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، اور ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں آپ کی امت اس کو انجام نہ دے سکے گی، چنانچہ میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے فرمایا: یہ ( ادا کرنے میں ) پانچ وقت کی نمازیں ( شمار میں ) ہیں، جو ( ثواب میں ) پچاس نماز کے برابر ہیں، میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا، اٹل ہوتا ہے، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس جائیں، تو میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے ۱؎۔
