العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عِيدَيْنِ فِي يَوْمٍ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ قَالَ صَلَّى الْعِيدَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَالَ " مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Iyas bin Abi Ramlah Ash-Shami (may Allah be well pleased with him) said:“I heard a man asking Hadrat Zaid bin Arqam: ‘Were you present with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when there were two ‘Eid on one day?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘What did he do?’ He said: ‘He prayed the ‘Eid prayer, then he granted a concession not to pray the Friday, then he said: “Whoever wants to pray (Friday), let him do so.”’”
الترجمة الأردية
ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کبھی ایک ہی دن دو عید میں حاضر رہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس آدمی نے کہا: تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: جو پڑھنا چاہے پڑھے ۱؎۔
