العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاحَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ، قَالَ: أَخْبَرَنَامَكِّيُّ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ثناعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ، حَتَّى أَنَّهُ لَيُعْتِقُ بِالْيَدِ الْيَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَالْفَرْجِ الْفَرْجَ"، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَا سَعِيدُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عِنْدَ ذَلِكَ لِغُلامٍ لَهُ إِمْرَةِ غِلْمَانِهِ: ادْعُ لِي مُطَرِّفًا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ.
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Whoever frees a believing slave, Allah will free every limb of his from the Fire in return for every limb of the slave — even freeing his hand for the slave's hand, his foot for the slave's foot, and his private parts for the slave's private parts." Ali ibn Husayn (may Allah be pleased with them) said: O Sa'id, did you hear this from Abu Hurayrah yourself? He said: Yes. So Ali ibn Husayn immediately told the chief of his servants: Call Mutarrif for me. When he came before him, he said: Go, you are free for the sake of Allah.
الترجمة الأردية
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: جس نے کسی مؤمن غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دیں گے، حتی کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ، ٹانگ کے بدلے ٹانگ اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ کو آزاد کر دیں گے۔ علی بن حسین رحمہ اللہ نے پوچھا: سعید! آپ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود یہ حدیث سنی ہے، تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تب علی بن حسین رحمہ اللہ نے اپنے غلاموں کے امیر سے کہا: مطرف کو میرے پاس بلائیں، جب وہ آپ کے سامنے آیا، تو آپ نے فرمایا: جائیے، آپ اللہ کی خاطر آزاد ہیں۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 968]
