العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناأَبُو صَالِحٍ، قَالَ: ثنياللَّيْثُ، قَالَ: ثنييُونُسُ، عَنِابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَنِيأَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُبَعْضُأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أَضْوَى فَعَادَ جِلْدُهُ عَلَى عَظْمٍ، فَدَخَلَتْ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ إِلَيْهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ، وَقَالَ: اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَيَّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مثل الَّذِي هُوَ بِهِ لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ، مَا هُوَ إِلا جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ،" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِائَةِ شِمْرَاخٍ فَيَضْرِبُونَهُ ضَرْبَةً وَاحِدَةً".
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Umamah ibn Sahl ibn Hunayf: Some of the Ansar Companions of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) informed him that a man among them became so ill and emaciated that he was nothing but skin and bones. A slave girl belonging to one of them entered upon him, and he was attracted to her and had intercourse with her. When men from his people came to visit him, he told them about it and said: Ask the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) for a ruling on my behalf, for I have been intimate with a slave girl who came to me. They mentioned it to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) and said: O Messenger of Allah, we have never seen anyone in such a condition of harm as he is in — if we carried him to you, his bones would fall apart; he is nothing but skin on bones. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) commanded them to take one hundred palm branches and strike him once with all of them together.
الترجمة الأردية
ابو أمامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ انہیں کسی انصاری صحابی نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی بیمار ہو گیا حتیٰ کہ وہ اس قدر کمزور ہو گیا کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا، کسی کی لونڈی اس کے پاس گئی تو وہ اس سے ہشاش بشاش اور خوش ہو گیا، اس نے اس سے جماع کر لیا، جب اس کی قوم کے لوگ اس کی تیمارداری کے لیے گئے تو اس نے انہیں اس (جماع) کے متعلق بتایا اور انہیں کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے میرے متعلق دریافت کرنا کہ میرے پاس ایک لونڈی آئی، تو میں اس سے جماع کر بیٹھا ہوں۔ انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے اس کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ ہم نے کسی کو ایسے مرض میں نہیں دیکھا، جو مرض اسے لاحق ہے۔ اگر ہم اسے آپ کے پاس اٹھا کر لائیں، تو اس کی ہڈیاں ٹوٹ کر بکھر جائیں گی، وہ تو صرف ہڈی اور چمڑا ہے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں حکم فرمایا کہ وہ سو باریک ٹہنیاں لیں اور ان کے ساتھ اسے ایک بار ماریں۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 817]
