العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ: ثنامُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، قَالَ: ثناعَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْمَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُعْتَمِرِ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ جَارِيَةٌ، فَأَصَابَ مِنْهَا ابْنًا، فَكَانَ يَسْتَخْدِمُهَا، فَلَمَّا شَبَّ الْغُلامُ دُعِيَ بِهَا يَوْمًا، فَقَالَ: اصْنَعِي كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ الْغُلامُ: لا تَأْتِيكَ حَتَّى مَتَى تَسْتَأْمَرُ أُمِّي؟ قَالَ: فَغَضِبَ أَبُوهُ فَحَذَفَهُ بِسَيْفِهِ فَأَصَابَ رِجْلَهُ أَوْ غَيْرَهَا فَقَطَعَهَا فَنَزَفَ الْغُلامُ فَمَاتَ، فَانْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ إِلَىعُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَنْتَ الَّذِي قَتَلْتَ ابْنَكَ؟ لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لا يُقَادُ الأَبُ بِابْنِهِ" لَقَتَلْتُكَ، هَلُمَّ دِيَتَهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ بِعِشْرِينَ أَوْ ثَلاثِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ، قَالَ: فَتَخَيَّرَ مِنْهَا مِائَةً فَدَفَعَهَا إِلَى وَرَثَتِهِ وَتَرَكَ أَبَاهُ".
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As (may Allah be pleased with them both): A man from Banu Mudlij had a slave woman from whom he had a son. He used to employ her in service. When the boy grew up, one day the man called her and told her to do such-and-such. The boy said: She will not come to you — how long will you keep commanding my mother? His father became angry and threw his sword at him, hitting his leg or another part, severing it. The boy bled profusely and died. A group of his people went to Umar (may Allah be pleased with him), who said: O enemy of yourself! You are the one who killed your son! Had I not heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say: "A father is not to be executed in retaliation for killing his son," I would have killed you. Bring his blood money. So he brought one hundred and twenty or thirty camels, and Umar selected one hundred from them and gave them to the heirs, leaving the father out.
الترجمة الأردية
سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو مدلج کے ایک آدمی کے پاس ایک لونڈی تھی، جس سے اس کا ایک لڑکا تھا، وہ آدمی اس لونڈی سے خدمت کروایا کرتا تھا، جب لڑکا جوان ہو گیا تو اس آدمی نے ایک دن لونڈی کو بلا کر کہا کہ فلاں فلاں کام کر دو، لڑکا کہنے لگا: وہ آپ کے پاس نہیں آئیں گی، کب تک آپ میری ماں پر حکم چلاتے رہیں گے؟ اس کے باپ نے غصے میں آکر اس کی طرف تلوار پھینکی جو اس کی ٹانگ یا اس کے علاوہ کسی جگہ پر لگی اور اس کو کاٹ دیا، لڑکے کا خون بہہ نکلا اور وہ مر گیا، وہ شخص اپنی قوم کے ایک گروہ کے ساتھ سیدنا عمر رضی الله عنہ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اے اپنی جان کے دشمن! تو نے خود ہی اپنے بیٹے کو قتل کر دیا ہے، اگر میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ بیٹے کے بدلے باپ کو قتل نہ کیا جائے تو میں تجھے قتل کر دیتا، اس کی دیت ادا کرو۔ راوی کہتے ہیں: وہ آدمی ایک سو بیس یا تیس اونٹ لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے ان میں سے سو اونٹ پسند کر لیے اور باپ کے علاوہ باقی ورثاء میں تقسیم کر دیے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 788]
