العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أناعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْسُفْيَانَ، عَنْمَنْصُورٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، ح وَثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَدِيثُ لَهُ، قَالَ: ثناعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أناسُفْيَانُ، عَنْمَنْصُورٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ: فَرَدَّهُمْ، ثُمَّ قَالَ: أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، أَرَى" لَهَا صَدَاقَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا لا وَكْسَ وَلا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ" قَالَ: فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي رَوَّاسٍ، وَبَنُو رَوَّاسٍ حَيُّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ".
الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) was asked about a man who married a woman but did not set a mahr for her and did not consummate the marriage before he died. Alqamah narrated: He returned them (initially), then said: I will give my own opinion. If it is correct, it is from Allah; if it is wrong, it is from me. She shall receive a mahr equal to that of women of her status — no less, no more. She inherits and must observe the waiting period. Ma'qil ibn Sinan al-Ashja'i stood and said: The Messenger of Allah (peace be upon him) ruled the same in the case of Birwa' bint Washiq.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا، جس نے کسی عورت سے شادی کی، نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ ہی اس سے مباشرت کی اور فوت ہو گیا۔ علقمہ کہتے ہیں: آپ نے ان کو واپس کر دیا، پھر کہنے لگے: میں اس بارے میں اپنی رائے ہی پیش کرتا ہوں۔ اگر درست ہوئی، تو اللہ کی طرف سے ہوگی اور اگر غلط ہوئی، تو میری طرف سے ہوگی۔ میری رائے تو یہ ہے کہ اسے اس جیسی (دیگر) خواتین کے برابر مہر ملے گا، نہ کم ہوگا، نہ زیادہ۔ وہ میراث کی حقدار بھی ہوگی اور اس پر عدت بھی ضروری ہے۔ سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے، جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بنو رواس کی خاتون بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا۔ بنو رواس، بنو عامر بن صعصعہ کا ایک خاندان ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 718]
