العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَاالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، أَنَّأَبَاهُ، أَخْبَرَهُ قَالَ: ثناابْنُ جَابِرٍ، قَالَ: ثنيأَبُو سَلامٍ، قَالَ: ثنيخَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا رَامِيًا، فَكَانَعُقْبَةُ الْجُهَنِيُّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدْعُونِي، فَيَقُولُ: اخْرُجْ بِنَا يَا خَالِدُ نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: تَعَالَ أُخْبِرْكَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّاللَّهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنَبِّلَهُ"." وَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلا ثَلاثَةٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا".
الترجمة الإنجليزية
Khalid ibn Yazid said: I was a skilled archer, and Uqbah al-Juhani (may Allah be pleased with him) used to call me and say: Come out with us, O Khalid, let us practice archery. One day I was late in coming to him, so he said: Come, let me tell you what the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) told me. I heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say: "Indeed, Allah will admit three people to Paradise because of a single arrow: the one who makes it, seeking good in its making; the one who shoots it; and the one who hands it to the archer. Practice archery and riding, and if you practice archery, it is more beloved to me than riding. There is no amusement except in three things: a man training his horse, playing with his wife, and shooting with his bow and arrows. And whoever abandons archery after having learned it out of disdain for it, it is a blessing that he has rejected."
الترجمة الأردية
خالد بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں تیراندازی میں ماہر تھا، سیدنا عقبہ جہنی رضی اللہ عنہ مجھے بلا کر کہتے: خالد! آئیں ہمارے ساتھ تیراندازی کریں، ایک دن میں لیٹ ہو گیا تو انہوں نے کہا: آئیں میں آپ کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی حدیث بیان کرتا ہوں اور جو بات آپ نے مجھ سے کہی تھی آپ کو بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے: تیر بنانے والا جو حصول ثواب کی نیت سے بناتا ہے، تیر چلانے والا، تیر انداز کو تیر پکڑانے والا۔ تیراندازی اور گھڑ سواری کریں، گھڑ سواری کی بہ نسبت تیراندازی مجھے زیادہ پسند ہے۔ تین طرح کے کھیل جائز ہیں: گھوڑے کو سکھانا اور سدھارنا، بیوی سے کھیل کود چھیڑ چھاڑ کرنا، تیر کمان کے ساتھ تیراندازی کرنا۔ جس نے تیراندازی سیکھی اور پھر اسے بے حیثیت سمجھ کر ترک کر دیا تو اس نے ایک نعمت کی ناشکری کی۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1062]
