العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، قَالَ: ثنامُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْجَدِّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ، قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُمَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ الإِسْلامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلا شِدَّةً، وَلا حِلْفَ فِي الإِسْلامِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَتُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ، وَلا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُؤْمِنِ، لا جَلَبَ، وَلا جَنَبَ، وَلا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلا فِي دُورِهِمْ".
الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) entered Makkah in the year of the Conquest, he stood among us as a preacher and said: "O people, whatever alliance was made during the pre-Islamic era, Islam has only strengthened it. There is no new alliance in Islam. The Muslims are one hand against all others; the least of them may grant protection on behalf of all, and the furthest of them may return it. The spoils of their expeditionary forces are to be shared with those who stayed behind. No believer shall be killed in retaliation for a disbeliever. The blood money of a disbeliever is half that of a believer. There shall be no jalab and no janab, and their charity shall not be collected except at their homes."
الترجمة الأردية
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی (امن و امان وغیرہ کا) معاہدہ تھا تو اسلام نے اسے تقویت پہنچائی ہے، اسلام میں کوئی حلف نہیں ہے، مخالفین کے مقابلے میں مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں، ان میں سے ادنیٰ مسلمان بھی پناہ دے سکتا ہے، اسی طرح دور کا رہائشی بھی پناہ کو توڑ سکتا ہے اور جو فوجی دستہ بڑے لشکر سے الگ ہو کر کسی مہم پر جائے تو وہ اپنے اس بڑے لشکر کو بھی مال غنیمت میں شریک کرے، کسی مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے، کافر کی دیت مؤمن کی دیت سے آدھی ہے، جلب ہے نہ جب بلکہ زکوٰۃ لوگوں کی جائے رہائش سے ہی لی جائے۔ (جلب کا معنی ہے کہ مصدق دفتر میں بیٹھ کر زکوٰۃ وصول کرے اور جب یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے اپنے مال کو اصل مقام سے کہیں دور لے جائیں۔)[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1052]
