العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ «إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَنْ سَلَفَ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا عَنْهَا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا وَأُعْطِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى إِذَا بَلَغُوا صَلَاةَ الْعَصْرِ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا وَأُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ أُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ قَالَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَقَلُّ عَمَلًا مِنَّا وَأَكْثَرُ أَجْرًا فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَلْ ظُلِمْتُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ شَيْئًا؟ فَقَالُوا لَا فَقَالَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn 'Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying while standing on the pulpit: "Your remaining span compared to the previous nations is like the time between the 'Asr prayer and sunset. The people of the Torah were given the Torah and acted upon it until midday when they became incapable, and they were given one qirat each. The people of the Gospel were given the Gospel and acted upon it until the 'Asr prayer when they became incapable, and they were given one qirat each. You were given the Qur'an and acted upon it until sunset, and you were given two qirats each. The people of the Torah and Gospel said: 'Our Lord, these people did less work than us yet received more reward.' Allah, Blessed and Exalted, said: 'Have I wronged you in any of your wages?' They said: 'No.' He said: 'Then it is My grace which I bestow upon whomever I wish.'"
الترجمة الأردية
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر کھڑے ہوئے فرماتے سنا: «تمہاری بقا گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے عصر کی نماز سے غروبِ آفتاب تک۔ اہلِ توراۃ کو توراۃ دی گئی، انہوں نے دوپہر تک عمل کیا پھر عاجز آ گئے تو انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ اہلِ انجیل کو انجیل دی گئی، انہوں نے عصر تک عمل کیا پھر عاجز آ گئے تو انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ تمہیں قرآن دیا گیا تو تم نے غروبِ آفتاب تک عمل کیا اور تمہیں دو دو قیراط دیے گئے۔ اہلِ توراۃ اور انجیل نے کہا: اے ہمارے رب! ان لوگوں نے ہم سے کم عمل کیا اور انہیں زیادہ اجر ملا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تمہاری اجرت میں سے کچھ کم کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں عطا کروں۔»
