العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ أَنَّ أُمَّ قَيْسِ بِنْتَ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّه�� ﷺ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْإِعْلَاقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ»
الترجمة الإنجليزية
Umm Qays bint Mihsan (may Allah be well pleased with her), who was among the first women emigrants who pledged allegiance to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and she was the sister of 'Ukkashah ibn Mihsan, informed me that she brought her young son who had not yet begun eating food to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and she had pressed his palate for tonsillitis. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Why do you press the palates of your children with this pressing? Use this Indian wood, meaning costus, for in it there are seven cures, one of which is pleurisy."
الترجمة الأردية
اُمّ قیس بنت محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی اور وہ عکاشہ بن محصن کی بہن تھیں، نے مجھے بتایا کہ وہ اپنا چھوٹا بیٹا لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں جس نے ابھی کھانا نہیں کھایا تھا اور اس کے تالو کو ٹانسلز کی وجہ سے دبایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم اپنے بچوں کے تالو اس دبانے سے کیوں دکھاتی ہو؟ تمہیں اس ہندی لکڑی کو استعمال کرنا چاہیے یعنی قسط، کیونکہ اس میں سات شفائیں ہیں جن میں سے ایک ذات الجنب ہے۔"
