العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لِأَبِي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي زَرَعْتُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِلْحَضْرَمِيِّ «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ » قَالَ لَا قَالَ «فَلَكَ يَمِينُهُ» قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ قَالَ «لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ» قَالَ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَمَّا أَدْبَرَ «أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Wa'il (may Allah be well pleased with him) narrated: A man from Hadramawt and a man from Kindah came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). The man from Hadramawt said: "O Messenger of Allah! This man has taken my land that belonged to my father." The man from Kindah said: "It is my land in my possession; I cultivate it and he has no right to it." The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said to the Hadhrami: "Do you have evidence?" He said: "No." He stated: "Then you have his oath." He said: "O Messenger of Allah! The man is a sinner who cares not what he swears and has no scruples about anything." He stated: "You have nothing from him except that." As the man turned to swear, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "If he swears on his wealth to consume it unjustly, he will surely meet Allah, the Exalted, while He turns away from him."
الترجمة الأردية
حضرت وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرموت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ حضرمی نے عرض کیا: «یا رسول اللہ! اس نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے جو میرے باپ کی تھی۔» کندی نے کہا: «یہ میری زمین ہے میرے قبضے میں ہے، میں اسے کاشت کرتا ہوں اور اس کا اس میں کوئی حق نہیں۔» نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: «تمہارے پاس گواہی ہے؟» اس نے کہا: «نہیں۔» فرمایا: «تو تمہارے لیے اس کی قسم ہے۔» اس نے عرض کیا: «یا رسول اللہ! یہ شخص فاجر ہے، اسے پرواہ نہیں کہ کس چیز پر قسم کھائے اور کسی چیز سے نہیں ڈرتا۔» فرمایا: «تمہارے لیے اس کے سوا کچھ نہیں۔» جب وہ شخص قسم کھانے کے لیے مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اگر اس نے اس کے مال پر ظلم سے کھانے کے لیے قسم کھائی تو وہ اللہ جل وعلا سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہوگا۔»
