العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ قَالَ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا وَضَعَتْ تَشَوَّفَتِ الْأَزْوَاجَ فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ «وَمَا يَمْنَعُهَا وَقَدِ انْقَضَى أَجَلُهَا»
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Sanabil narrated: Subay'ah delivered her child twenty-three or twenty-five nights after her husband's death. When she delivered, she adorned herself for (potential) husbands, but this was criticized. This was mentioned to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and he stated: "What prevents her when her waiting period has already ended?"
الترجمة الأردية
ابوالسنابل سے روایت ہے: سبیعہ نے اپنے شوہر کی وفات کے تئیس یا پچیس راتوں بعد بچہ جنا۔ جب بچہ جنا تو انہوں نے (ممکنہ) شوہروں کے لیے بنی سنوری۔ اس پر اعتراض کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اسے کون روکتا ہے جبکہ اس کی عدت ختم ہو چکی ہے؟
